مہرو انساء

afsanvi

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 11

عبایا پہنے سر پہ حجاب کیا وہ سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ ناشتہ کر کے جا۔ تہمینہ نے مہرو سے کہا۔ مجھے نہیں کرنا مجھے کالج کے لیے دیر ہو رہی ہے۔ مہرو کہتے جانے لگی۔ تم آج سے کالج نہیں جاؤ گی۔ آغا جان نے روعبدار آواز میں کہا۔ آغاجان کی بات سن کے مہرو کے قدم رکے اور اس نے مڑ کے آغا جان کو دیکھا۔
لیکن آغا جان میری پڑھائی۔ مہرو نے پوچھا۔میں نے کہا نا نہیں جانا تو نہیں جانا ۔ آغا جان نے اسے بتایا۔ مگر آپ ایسے بیچ میں اس کی پڑھائی تو نہیں روک سکتے۔مہر نے بیچ میں مداخلت کی۔
برخوردار تم مہمان ہو ہمارے اور ہم امید کرتے ہیں تم بہت جلدی اپنا پروجیکٹ مکمل کرتے اپنے شہر چلے جاؤ گے۔ آغا جان نے ٹھنڈے لہجےمیں کہا تو مہر خاموش ہو گیا اور مہرو سر جھٹک کر کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
مجھے بہت فکر ہورہی ہے اکبر مہرو کی طرف سے۔ تہمینہ پریشانی میں کہنے لگی۔ کیوں اب کیا ہوا۔ اکبر نے اس سے پوچھا۔ وہ ابھی تک نہیں راضی ہوئی شادی کے لیے۔تہمینہ نے بتایا۔تم فکر نہ کرو میری بیٹی کے نصیب میں جو ہو گا اسے وہی ملے گا ۔ اکبر نے انہیں تسلی دی۔ آپ کو ذرا سی بھی فکر نہیں ہورہی۔تہمینہ نے اکبر کو دیکھتے ہوئے کہا۔ نہیں ہورہی مجھے میرے اللہ پورا یقپن ہے تم چائے لے کے آؤ میرے لیے۔اکبر اعتماد بھرے لہجے میں بتایا۔جس سے تہمینہ خاموشی سے ادھر سے چلی گئی
مہر تم جا کہیں بھی ہو اپنی امانت لے جاؤ مجھے یقین ہے تم ضرور آؤ گے۔اکبر نے دل میں کہا
سکینہ کچن کے سینک میں کھڑی ہاتھ دھو رہی تھی کے تبھی فضل کچن میں آیا ۔ سکینہ ہاتھ دھوتی مڑی اور زور سے چیخ ماری۔ فضل اس کی چیخ سے ڈر گیا۔ کیا ہوا۔فضل نے گھبراتے ہوئے پوچھا۔ تجھے کچن میں کس نے آنے کی اجازت دی۔ سکینہ نے اس کی بات نظرانداز کرتے اپنا سوال کیا۔ وہ میں سبزیاں لایا تھا۔فضل نے بتایا ۔باہر ٹیبل نظر نہیں آرہی ادھر نہیں رکھ سکتا تھا۔ سکینہ نے باہر پڑی ٹیبل پہ اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ لیکن ہوا کیا۔فضل نے پھر پوچھا۔ہوا کیا میں نے پورے پینتس منٹ لگا کے کچن چمکایا اور تو نے دو منٹ میں سارا کا سارا کچن خراب کردیا۔سکینہ نے اسے بتایا۔
کیا ہوا۔بی اماں نے سکینہ سے کہا۔بی اماں رک جائیں پہلے میں اس سے بات کر لو۔ سکینہ نے انہیں چپ رہنے کو کہا۔ سبزیاں شیلف پہ رکھ۔ سکینہ نے بولا تو اس نے رکھ دی۔وائیپر اٹھا۔ سکینہ نے اسے کچن میں پڑے وائیپر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ کیا۔ فضل نا سمجھتے ہوئے کہنے لگا۔کیا کیا سنائی نہیں دیا۔ سکینہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔تو وہ وائیپر اٹھا لایا۔ چل مارنا شروع کر۔ سکینہ نے۔اسے حکم دیا اور خود کرسی پہ بیٹھ گئی۔
سکینہ یہ تو کیا کررہی۔ بی اماں نے پوچھا۔ بی اماں آپ ہی کہتی ہے جو انسان کام خراب کریں اسے سے ٹھیک کروانا چاہیے تو میں بھی وہی کررہی ہوں۔مگر سکینہ میں ڈرائیور ہوں۔ فضل نے بتایا۔ ڈرائیور ہے تو کام کیا ہے تیرا مہرو باجی کو گھر سے کالج اور کالج سے گھر چھوڑنا۔ سکینہ کسی کی کوئی بات سننے کو تیار نہ تھی۔ایک بات بتا تو اس گھر کی نوکرانی ہے یا مالکن۔فضل نے اس سے پوچھا۔ پہلے بات میں اس گھر کی نوکرانی نہیں ہوں اور دوسری بات آغا جان کی طرح مالکن بننا نہیں چاہتے۔ دوسری بات سکینہ نے ہنستے ہوئے بتائی۔
سن ہم دونوں دوست بن جائیں۔ فضل نے اسے چکما دیا۔ کیوں کس لیے یہ مجھے باتوں میں نہ الجھا اور چپ کر کے کام کر۔ سکینہ اس کی باتیں خاطے میں نہ لاتے ہوئے کہنے لگی۔دیکھ پانچ بجنے والی ہے جلدی کر۔سکینہ نے اسے کہا۔کیوں پانچ بجے کیا ہوتا ہے۔فضل وائیپر مارتے پوچھنے لگا۔ پانج بجے شادی کے وضیفے والا شو آتا ہے میں وہ دیکھتی ہوں۔سکینہ نے بتایا۔
مہرو نماز پڑھتے ہوئے اٹھی تھی کے تبھی دروازے پہ دستک ہوئی مہرو نے دروازہ کھولا ۔آپ۔مہرو نے کہا۔ اب تم کہو گی آغا جان آ سکتے ہیں آپ جائیں مگر میں تمہیں بتا دوں تمہارے آغا جان سو چکے ہیں اور وہ بھی دو نیند کی گولیاں کھا کر تم تو جانتی ہو گی۔ مہر نے مہرو کو کہا جس سے وہ آنکھیں نیچے کر گئی۔
لیکن آپ کو کیسے پتہ آغا جان دو گولیاں کھاتے۔ مہرو نے پوچھا۔ابراہیم سے پوچھ کے آرہا ہوں۔ مہر نے بتایا۔اوہ۔ مہرو کہتے ساتھ بیلکونی میں چلی گئی۔اور مہر بھی اس کے۔پیچھے چل دیا۔
میں نے تمہارے شوہر کا پتہ لگوا لیا ہے ڈاکٹر آغا مہر فیصل۔مہر نے اسے کہا تو اسے اس نے چونک کر دیکھا کیا واقع۔ مہرو بے یقینی سے پوچھنے لگی۔ہاں مگر وہ تو اپنی انگریز بیوی کے ساتھ ہنی مون پہ گیا ہوا ہے اور وہ بہت پیاری ہےمہر نے سنجیدگی سے بتایا ۔
کیا تو کیا میں پیاری نہیں ہوں۔ مہرو نے پوچھا۔میری نظر سے دیکھو تو تم سا حسین تو کوئی ہے ہی نہیں۔ مہر نے مہرو کے کان میں سر گوشی کی۔ مہر سر آپ یہ کیا کہ رہے ہیں۔مہرو نے فوراً پیچھے ہوتے ہوئے پوچھا۔ میری چھوڑو ابھی اپنے شوہر کی انگریز بیوی کا سوچو ۔ مہر نے بات بدلی۔ مہر سر آپ کسی طرح مہر اور اسکی۔انگریز ںیوی کو گاوں لے آئے پھر دیکھیں میں اس کی انگریز بیوی کے ساتھ کرتی کیا ہوں۔ مہرو نے غصے سے کہا مہر کو ۔اس کی کنڈیشن دیکھ کے ہنسی آرہی تھی مگر وہ ہنسی کو چھپا گیا
میں کیسے لا سکتا ہوں اور سوچو تمہارا شوہر تم سے محبت نہ کرتا ہو اور وہ تمہیں لینے نہ آئے پھر کیا کرو گی۔مہر نے آج اسے رولانے کی قسم کھا رکھی تھی مہرو کی شکل دیکھ کے اسی بہت مزہ آرہا تھا۔
سکینہ ڈائیننگ ٹیبل صاف کررہی تھی جب اسے مہرو کی سونے کی بالی۔ میں ابھی مہرو باجی کو جا کے دے کے آتی ہوں سکینہ۔ کہتی سیڑھیاں چڑھنے لگی یہ کیا مہرو باجی کے کمرے کا دروازہ اب تک کھولا ہوا ہے ۔سکینہ کہتی اس کی طرف بڑھی۔
میں اور تم۔ایک کمرے میں بند ہو جائے۔ سکینہ کمرے میں آئی تو بیلکونی میں کھڑے مہر اور مہرو کو دیکھا تو گانا گانے لگ گئی۔سکینہ تم پھر شروع ہو گئی۔ مہرو نے کہا۔ لے باجی میں کیا کررہی تھی میں گانا ہی تو گا رہی تھی اچھا یہ آپ کی سونی کی بالی میز پہ پڑی تھی۔ سکینہ نے اس کی طرف سونے کی بالی کی تو اس نے تھام لی۔
چاند چھپا بادل میں شرما کے میری جانا۔سکینہ ایک اور گانا گنگناتی چلی گئی جس سے مہر زور دار قہقہ لگا کے ہنسنے لگا۔ سکینہ بچپن سے ہی۔ مہر کہتا کہتا رکا اور مہرو نے اسے گھور کے دیکھا۔
میرا مطلب کیا وہ بچپن سے ہی۔ایسی ہے۔ مہر نے فوراََ بات بدلی۔ جی پانچ سال کی تھی جب بی اماں اسے اس گھر میں لائیں تھی۔مہرو نے مسکراہتے ہوئے بتایا۔
ایک منٹ سکینہ نے تو مجھے بتایا تھا مہر اکیلا آیا ہے۔ مہرو نے اسے بتایا۔ مہرو تم بےوقوف ہو وہ انگریزن لڑکی کبھی پاکستان نہیں آئے گی اور وہ بھی گاؤں۔مہر نے اس کو بے وقوف بنا رہا تھا اور وہ اس کی بات پہ بنتی جارہی تھی۔اب کیا کرو گی رشتے سے ہاں کر دو گی۔مہر نے اس سے پوچھا نہیں۔ مہرو نے بتایا مگر وہ کل انگھوٹھی پہنانے آرہے ہیں۔ مہر نے بتایا۔مہر سر میرے پاس بہت اچھا آئیڈیا ہے۔مہرو کے کہتے ہی اس کے لبوں پہ ایک جاندار مسکراہٹ آئی۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial