مہرو انساء

afsanvi

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 9

مہرو نے ایک نظر مہر پہ ڈالی جو خاموش بیٹھا تھا۔پھر آپ کی نظر میں آپ کے آغا جان قاتل ہے۔ مہر نے پوچھا۔ جی۔ مہرو نے بتایا۔ مہر اٹھ ہی رہا تھا کے اس کی نظر سائیڈ ٹیبل پہ پڑی فوٹو فریم کی فوٹو پہ گئی۔
یہ کون ہے۔ مہر نے فوٹو فریم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میرے شوہر ہیں۔ مہرو نے ایک نظر فوٹو فریم پہ ڈالی اور پھر مہر کو دیکھ کے بتانے لگی۔ آپ کے شوہر اتنے چھوٹے ہیں۔مہر پریشانی سے پوچھنے لگا۔
یہ ان کے بچپن کی تصویر ہے۔مہرو نے اس کی فضول سی بات کا جواب دیا ۔ کیا کرتے ہیں۔ مہر اس کے بارے میں انفارمیشن لینے لگ گیا۔ ڈاکٹر ہیں۔ مہرو نے پھر بتایا۔ اچھا تو ہوتے کہاں ہے۔ اگر پتا ہوتا تو یہاں ہوتی۔ مہرو نے افسوس سے اسے بتایا۔ اوہ اچھا۔ مہر اس کی حالت سمجھ کر بولا۔
مہرو کیا ہم دوست بن سکتے ہیں۔ مہر نے مہرو کو کہا۔ نہیں سر ہمارا جو رشتہ ہے سر سٹوڈنٹ کا وہی ٹھیک ہے۔ میں کسی کی امانت ہوں اس میں خیانت نہیں کر سکتی۔ مہرو نے اسے انکار کرتے ہوئے کہا تو وہ کمرے سے چلا گیا۔ مہر کمرے میں آیا اور بیڈ کے کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے وہ مسکراہنے لگا
لال کلر کے لہنگہ پہنے ہاتھوں پہ چوڑیاں ڈالے ریڈ کلر کی لپسٹک لگائے چھ سالہ مہرو خود کو شیشے میں دیکھ رہی تھی۔ مہرو تو نے یہ لال رنگ کا لہنگہ کیوں پہنا ہے اور تو امی کی طرح کیوں تیار ہوئی ہے۔دس سالہ بچے نے اس سے آکے پوچھا۔ تجھے نہیں پتہ آج ہم دونوں کا نکاح ہے ۔ مہرو نے اسے بتایا۔ اچھا تو کیا پھر ہم ایک ہی کمرے میں رہیں گے اس نے خوشی سے بولا۔ ارے نہیں جب ہم بڑے ہوں گے نا ہم تب ایک ساتھ رہیں گے۔ مہرو نے اسے بتایا۔ پھر ہم بڑے ہو کے ہی شادی کریں گے ۔ اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ اگر تم بڑے ہو کے کھو گئے تو پھر۔ مہرو نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ ہمممم نہیں نہیں ہم ابھی کر لیتے ہیں نکاح۔ وہ فوراً بولا تو پھر دونوں مسکرا دیے۔
وہ کالج کی کینٹین میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ بیٹھی ہنس رہی تھی۔یار مجھے تو سر مہر بہت پسند ہے ۔ رباب نے بتایا۔ ہممم یار مجھے خود بھی پسند ہے وہ کافی ہینڈسم ہے۔ ریما نے رباب کی بات پہ ایگری کیا۔ مجھے تو وہ نہیں پسند اٹیٹیوڈ دیکھا تم نے ان کامیں کر کے دیکھاتی ہوں ایکٹنگ۔ مہرو کہتے ساتھ کرسی سے کھڑی ہوئی اور بازو کی آستینیں اوپر چڑھاتی لڑکے کی طرح کھڑی ہوئی۔
مس مہرو اپنی اسائمنٹ دیجیے۔مہرو نے بھاری آواز میں کہا۔ کے تبھی ریما اور رباب فوراً اپنی کرسی سے کھڑی جو تھوڑی دیر پہلے ہنس رہی تھی اب ان دونوں کی ہنسی غائب اور وہ مہرو کو انگلی سے منع کررہی تھی۔ کیا ہوا۔ مہرو نے مڑ کر دیکھا تو مہرو شاکڈ سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھنے لگی۔
مس مہرو کلاس میں آئے۔ مہر نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔ سر آپ کی کلاس تو ختم ہو گئی ہے نا میں کل والی کلاس میں آؤ گی وہ کہتی فوراً وہاں سے چلی گئی اور مہر کے چہرے پہ بے ساختہ مسکراہٹ آئی۔
مجھے نہیں پتا مجھے گاؤں جانا ہے اتنے سالوں بعد میرا بیٹا واپس آیا ہے اور آپ مجھے یہاں لے آئے۔ شاہدہ نے شکوہ کیا۔ شاہدہ بیگم مہر اپنا کام کررہا ہے وہاں اس لیے آپ وہاں بھی ہوتی تو اسی نہ دیکھ سکتی کیا آپ کو لاہور پسند نہیں آرہا۔ فیصل نے پوچھا۔ نہیں مجھے میرا گاؤں ہی اچھا لگتا ہے۔ شاہدہ نے ناراضگی سے بتایا۔ ٹھیک ہے پھر ہم جلد ہی گاؤں جائیں گے اب خوش۔ فیصل نے مسکراہتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دی۔
مہرو گھر میں داخل ہوئی سامنے آغا جان کو بیٹھے پایا۔ اسلام و علیکم آغا جان۔ مہرو نا چاہتے ہوئے بھی سلام کر گئی۔وسلام ۔ آغا جان نے جواب دیا۔ اے لڑکی آج رات کے کھانےمیں آنا میں نے کوئی بات کرنی ہے آپ سب سے۔ آ غا جان نے حکم دیا۔ جی آغا جان۔وہ کہتے کمرےمیں چلی گئی
ابھی کمرے میں آئی تھی کے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کے مہرو کو تھجکا لگا۔ آ آ آپ یہاں ۔ مہرو گھبرا کے بولی۔ تو کیسے بولتا ہوں میں اور کیسے کھڑا ہوتا ہوں۔ مہر نے بہت سنجیدگی سے پوچھا ۔ مجھے کہاں آتا ہے کرنا وہ تو میں بس ایسی ہی مذاق کررہی تھی۔ مہرو کنفیوز ہوتے ہوئے بتانے لگی۔ مذاق کررہی تھی۔ مہر نے مہرو کی جانب ایک قدم بڑھایا اور مہرو ایک قدم پیچھے ہوئی مہر ایک قدم اور اس کی طرف بڑھا مہرو وہاں سے ایک قدم پیچھے ہوئی مہر یہاں سے پھر بڑھا مہرو وہاں پیچھے ہوئی تو دیوار سے لگ گئی مہرو اور مہر کے بیچ ایک انچ کا فاصلہ بھی نہ تھا۔
مجھے بولنے والی مہرو پسند ہے یہ گھبرائی ہوئی مہرو مجھے نہیں پسند۔ مہر نے مہرو کے کان میں سرگوشی کی۔ مہرو کی اوپر کی سانس اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی اور اس کا دل معمول سے زیادہ تیز دھڑکنیں لگا مہر مہرو کی حالت کو بہت انجوائے کررہا تھا
پھر دونوں ایک دوسرے کو دیکھنےمیں مگن ہو گئے کافی دیر وہ یوں ہی دیکھتے رہے کے تبھی سکینہ مہرو کے کمرے میں آئی۔آج پھر تم پہ پیار آیا ہے آج پھر تم پہ پیار آیا ہے بے حد اور بے شمار آیا ہے۔ سکینہ ان دونوں کو دیکھتے ہوئے گانا گانے لگی۔
تبھی مہر مہرو سے دور ہوا اور کمرے سے چلا گیا۔ بڑے پیارے لگ رہے تھے ساتھ۔ سکینہ نے مسکراہتے ہوئے بتایا ۔ فضول مت بولا کرو سکینہ ۔ مہرو کو چاہتے ہوئے بھی اس بات پہ غصہ نہ آیا۔ اللہ جوڑی سلامت رکھے سکینہ کہاں چپ ہونے والی تھی۔ سکینہ تم جاؤ یہاں سے۔ مہرو نے تھوڑا ٹھنڈے لہجے میں کہا۔ باجی میں کام کرنے آئی ہوں۔ سکینہ نے بتایا اور پھر گانا گانے میں مگن ہو گئی ۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial