میں اسیرِ محبت ہو گیا

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 10

وہ صبح پانچ بجے ہی اٹھ گئی تھی کیونکہ ایک تو اسے نماز پڑھنی تھی اور پھر باران کے لیے فریش جوس بنانا تھا ۔ جائے نماز اور ایک چھوٹا سا قرآن وہ اپنے ساتھ لائی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی اسے یہاں تو ملنی نہیں یہ چیزیں ۔
نماز پڑھ کر وہ کچن میں جانے کے لیے کمرے سے نکلی تو اسی وقت باران سیڑھیاں اترتا نظر آیا جس کی گود میں رحمان چڑھا اس کے گال پر بار بار کس کر رہا تھا جبکہ باران کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی رحمان کی اس حرکت پر ۔
زحلے تو باران کو دیکھتی رہ گئی تھی کیونکہ بلیک کلر کے ٹراؤزر بلیک بنیان جو اس کی پیکس والی باڈی کے خدو خال صاف دیکھا رہی تھی پہنے وہ سامنے والوں کو ہیپنوٹائز کرنے جتنا ہیڈسم لگ رہا تھا ۔ اور اوپر سے اس کے چہرے کی ہلکی سی مسکراہٹ وللہ زحلے کو لگا تھا کہ شاید کبھی بھی اس نے باران جیسا ہینڈسم نوجوان نہیں دیکھا تھا ۔ توبہ توبہ زحلے ہوش کرو تمہیں اس پر نظر رکھنی ہے پر یہ والی نہیں دوسری والی ۔
ز حلے خود کو شرم دلاتی ہلکی آواز میں بولی اور پھر سامنے دیکھا جہاں وہ سیڑھیاں اتر کر کسی کمرے کی جانب بڑھ رہا تھا ۔ اس سے پہلے وہ اس کمرے میں داخل ہوتا زحلے نے اسے پکارا تھا ۔ سر ! زحلے کی آواز پر باران نے پلٹ کر اسے دیکھا جو آج بھی مشرقی لباس پہنے تھی مگر آج اس نے لال رنگ کی فراک پہنی تھی جس میں وہ کھلا گلاب لگ رہی تھی ۔ رحمان تو اسے دیکھ مسکرا کر ہاتھ ہلاتا اسے اپنی جانب متوجہ کرنے لگا ۔
اس نے بھی باران جیسی ڈریسنگ کی ہوئی تھی ۔ رحمان کے ہاتھ ہلانے پر زحلے نے بھی اسے مسکرا کر ہاتھ ہلائے تھے اور باران اس کی مسکراہٹ دیکھتا رہ گیا تھا ۔ ہمم بولو کیا بات ہے ؟؟ باران کا لہجہ اس کے لیے پھر سے نرم تھا ۔ سر وہ پوچھنا تھا کہ جوس بنا کر ٹیبل پر رکھنا ہے یا آپ کے کمرے میں دینا ہے ۔
زحلے کے سوال پر باران نے نہ میں سر ہلایا تھا ۔ نہیں نہ ٹیبل پر نہ ہی کمرے میں لانا ہے تم ایک گھنٹے تک جم روم میں لے انا یعنی اس کمرے میں ۔ باران نے اسے ہدایت دیتے ساتھ اس کمرے کی جانب اشارہ کیا جس میں وہ جا رہا تھا ۔ اوکے سر ٹھیک ہے میں بنا لاؤں گی ۔
وہ مسکرا کر کہتی وہاں سے واپس کمرے کی جانب بڑھ گئی اور باران رحمان کے ساتھ جم روم میں بڑھ گیا ۔
###############################
وہ واشروم سے نہا کر نکلا ہی تھا کہ اس کے موبائل کی رنگ ٹون بجی تھی ۔ نمبر کوئی ان نون تھا اس نے جیسے ہی فون کان سے لگایا تو دوسری جانب سے سنائی دی گئی آواز سن اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے تھے ۔
آئے مشٹر اینڈشم تیشے او مودھے مش تیا ؟؟ ( ہائے مسٹر ہینڈسم کیسے ہو ؟؟ مجھے مس کیا ؟؟ ) نورے کی کھلکھلاہٹ اور توتلی آواز پر اسے رحمان بہت یاد آیا تھا ۔ چار دن ہو گئے تھے اسے رحمان کو دیکھنا تو دور اس سے بات بھی نہیں ہوئی تھی ۔
ہائے نورے دا پرنسزز میں بلکل ٹھیک ہوں اور آپ کو بلکل نہیں بھولا میں ۔ یہ بتاؤ میری دوست نورے کیسی ہے ؟؟ داور نے نورے کے سوالوں کا جواب دیتے اس سے طبیعت کا پوچھا ۔ نورے بلتل تھیت اے اور مودھے آپ شے پوتھنا تھا تہ ہم تب ملیں دے ؟؟ ( نورے بلکل ٹھیک ہے اور مجھے آپ سے پوچھنا تھا کہ ہم کب ملیں گے ) نورے کے سوال پر داور مسکرایا تھا ۔
ہاہا میری دوست مجھے مس کر رہی ہے تو چلو پھر ہم آج ہی ملتے ہیں شام پانچ بجے ایفلٹاور پارک میں ۔ اکیلے مت آنا کسی کے ساتھ آنا اگر کوئی نہیں آسکتا تو مجھے بتا دینا میں آکر لے جاؤں گا آپ کو ۔ میں ابھی ہیرس میں ہی ہوں تو تم سے مل سکتا ہوں ۔
داور نے شیشے کے سامنے کھڑے ہوتے اپنے چہرے کو غور سے دیکھتے کہا تو نورے دوسرے جانب خوشی سے اچھلی تھی ۔ یاہوو اوتے نورے اپنی مما شاٹھ آئے دی ۔ ( یا ہووو اوکے نورے اپنی مما ساتھ آئے گی ) ۔
وہ خوشی سے بولی تو داور بھی اس کی خوشی ہر خوش ہوا تھا ۔ اوکے پھر ابھی آپ کے مسٹر ہینڈسم تیار ہو جائیں ہم شام کو ملیں گے اوکے بائے ۔ داور کے بائے کہنے پر نورے نے بھی بائے کہا تو داور نے کال کٹ کی تھی ۔
###############################
اللہ جی کیا ہی ہوتا اگر وہ باران خان ایک اچھا انسان ہوتا ۔ اتنا خوبصورت ہے مگر شیطان ہے ۔ توبہ ہے پتا نہیں کیوں ان جیسوں کے پاس دل نہیں ہوتا ۔ وہ جوس بناتی ساتھ ساتھ بڑبڑا رہی تھی ۔ ہا زحلے تم بھی کیا کہہ رہی ہو ۔
ان کے پاس دل نہیں ہوتا اسی لیے تو ایسے ہوتے ہیں ۔ خیر چل اس شیطان کو جوس دے کر آ ۔ میرا بس چلے تو زہر ملا دوں اس کے جوس میں ۔ وہ پھر سے بڑبڑاتے جوس لیتی کچن سے نکل گئی ۔
###############################
سر یہ آپ کا جوس ۔ وہ جم روم میں داخل ہوتی بولی جہاں باران پسینے سے بھیگا ٹرڈمیل پر بھاگ رہا تھا اور رحمان ایک کورنر میں کھڑا تھا جہاں اس کے لیے اس کے مطابق جم بنائی گئی تھی اور وہ ان میں سے پڑے پلاسٹک کے دمبلز اٹھا کر اپنے بازو دیکھ رہا تھا جیسے دیکھنا چاہتا ہو کہ ڈولے شولے بنے کہ نہیں ۔
رحمان کو دیکھ زحلے کے چہرے پر خود بخود مسکراہٹ بکھری تھی ۔ سر آپ کا جوس وہ بنا باران کو دیکھے اس کی ٹریڈمل کے پاس کھڑی اس کے سامنے ٹرے کرتی بولی جس میں دو جوس کے گلاس تھے ۔ ایک چھوٹا رحمان کے لیے اور ایک بڑا باران کے لیے ۔ شکریہ وہ اپنا گلاس اٹھاتا بولا تو زحلے دوسرا گلاس لیے رحمان کے پاس آئی تھی ۔
رحمان یہ لو آپ کا جوس جلدی سے فنش کرو ۔ وہ رحمان کے بال بگارتی بولی ۔ دیتھو زالے میلے پیکش بن دئے نہ ؟؟ میں ہینڈسم لد را آؤں نہ بابا اول تاتو کی ترح ؟؟ ( دیکھو زحلے میرے پیکس بن گئے نہ ؟؟ میں ہینڈسم لگ رہا ہوں نہ بابا اور چاچو کی طرح ؟؟ ) رحمان نے آنکھوں میں خوشی اور امید لیے زحلے سے پوچھا تو وہ کھلکھلا کر ہسی تھی اور اس کی کھلکھلاہٹ کسی کے دل کے تار چھیر گئی تھی ۔
باران کے قدم بے ساختہ ہی ان دونوں کی جانب اٹھے تھے ۔ میرا رحمان ویسے ہی بہت ہینڈسم ہے اسے اور محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے ؟؟ زحلے نے اس کے گال چوم کر کہا تو وہ شرمانے لگا ۔ باران ان کے پیچھے کھڑا بڑی دلچسپی سے سارا منظر دیکھ رہا تھا ۔
اچھا چلو شرمانا بند کرو اور چلو جوس فنش کرو پھر زحلے آپ کے لیے ناشتہ بنانے جائے گی تاکہ ناشتہ کرکے جلدی جلدی بڑے ہو جاؤ ۔ وہ مسکراتے ہوئے رحمان کے آگے جوس کا گلاس کرتی بولی تو رحمان نے پر جوشی سے گلاس اٹھا لیا ۔
زحلے ! باران نے نا جانے کس احساس کے تحت اس کا نام لیا تھا جبکہ اس کے منہ سے پنا نام سن کر زحلے کی بیک بون میں سنسناہٹ ہوئی تھی ۔ ج۔۔جی سر ؟؟ زحلے جلدی سے کھڑی ہوتی بولی ۔ ہاں کیا ؟؟ کچھ نہیں یہ لو گلاس بس یہی پکرانا تھا ۔
باران جب ہوش میں آیا تو اس کو گلاس پکراتا بولا اور کندھے پر رکھے ٹاول سے پسینہ پونچھتا جم روم سے نکل گیا ۔ اور زحلے اس کے بیہیو پر نا سمجھی سے کندھے اچکاتی پھر سے رحمان کی جانب متوجہ ہو گئی جو اپنا جوس کا گلاس فنش کرنے کے قریب تھا ۔
###############################
داریہ ویسے ایک بات تو بتاؤ ہم لوگ باقی روسی کپلز کی طرح میرج ڈریس میں پورا شہر گھومنے کیوں نہیں گئے اور وہ کیا نام ہے اس مجسمے کا ہاں یاد آیا پیٹر دا گریٹ کا مجسمہ اس کے نیچے سکے کب پھینکیں گے ؟؟ تاکہ ہم بھی ایک ہیپی کپل کی طرح رہیں ؟؟
ذزان پھر سے داریہ کا ضبط آزمانے پہنچ چکا تھا جبکہ اب داریہ کو پتا چل گیا تھا کہ ذزان ایک نہایت ڈھیر انسان ہے اس لیے غصہ کرنے کی بجائے اسے مسکرا کر دیکھنے لگی ۔ واہ جی پورے شہر کا چکر لگانا ہے اور مجسمے کے نیچے سکے پھینکنے ہیں میرے کنٹریکٹ والے شوہر کو ؟؟
داریہ نے آنکھیں مٹکاتے پیار سے پوچھا تو ذزان نے خوشی اور پرجوشی سے کھڑے ہوتے سر ہاں میں ہلایا ۔ بیٹھ جاؤ یہاں چپ کرکے سکے پھینکنے ہیں تمہیں اس سے پہلے میں تمہیں لے جا کر دریا میں نہ پھینک آؤں نہیں بلکے ایسے میں کنفیوژ ہو جاؤں گی کہ کس دریا میں پھینکوں ۔
ایک تو روس میں سب سے زیادہ دریا پائے جاتے ہیں چھتیس دریاوں میں سے ایک کو چوز کرنا مشکل ہوگا ۔ نہیں نہیں اس سے اچھا میں تمہیں لے جاکر بیکل جھیل میں پھینک آؤں گی ۔
کہتے ہیں وہ سب سے قدیم اور گہری جھیل ہے تو تم باہر بھی نہیں نکل سکو گے اور جانتے ہو وہاں پر ایسے ایسے آبی جانور پائے جاتے ہیں جو دنیا کی کسی جھیل دریا یا سمندر میں نہیں پائے جاتے تو بس تمہاری باڈی بھی نہیں آئے گی اوپر جب تم مر جاؤ گے کیونکہ تمہیں تو آبی جانور ہی کھا جائیں گے ۔ کیسا لگا میرا آئیڈیا ؟؟
داریہ نے ایسے کہا جیسے وہ کسی کو مارنے نہیں بلکے کسی کی شادی میں تحفے لیجانے کا فیصلہ کر رہی ہو ۔ خدا کو مانو لڑکی کیوں ہو اتنی خطرناک بندہ مزاق بھی نہیں کر سکتا تم سے تو ۔ وہ ڈر کر واپس صوفے پر بیٹھتا بولا جبکہ داریہ واپس اپنا موبائل یوز کرنے لگی ۔
اپنے مزاق اپنے پاس رکھا کرو ورنہ میں واقع تمہارے ساتھ ایسا کروں گی ۔ اور تمہارے مدد کے لیے پکارنے پر بھی تمہیں بچانے کوئی نہیں آئے گا کیونکہ یہاں کے لوگوں کو انگریزی اور اردو نہیں آتی اور تمہیں روسی زبان نہیں آتی ۔ لہذہ کوشش کرنا کہ میرا دماغ خراب نہ کرنا ورنہ میں کسی کا قتل کرنے سے پہلے سوچتی نہیں ۔
وہ اسے وارن کرتی وہاں سے چلی گئی جبکہ ذزان نے منہ کے زاویے بگارتے اس کی نقل اتارتے سائیڈ پر منہ کیا کہ وہاں بیٹھے جانو کو دیکھ ایک کا کلیجہ منہ کو آیا تھا کیونکہ جانو اس کو گھور گھور دیکھ رہا تھا ۔ وہ دل پر ہاتھ رکھتا وہاں سے بھاگ گیا تھا کیونکہ جانو کے ارادے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔
###############################
مارکو یہ کارٹون اندر لے جاؤ اٹھا کر اس میں دس کلو ڈرگزز ہیں اور ان ڈرگز کو اندر ہال کمرے میں لے جاکر باقی لوگوں کے ساتھ کھیلونوں میں بھرو ۔ غزین جو حلیہ بدل کر باران کے گودام میں مارکو بن کر رہ رہا تھا اسے وہاں کے نگران نے ایک کارٹون کی جانب اشارہ کرتے کہا جس پر وہ سر ہلاتا وہ کارٹون اٹھاتا اندر بڑھ گیا ۔
اس نے یہاں آکر بہت انفورمیشن لے لی تھی کہ کب یہاں مال آتا ہےا اور کب نکلتا ہے ۔ اور یہ انفورمیشن اس کے لیے بہت اہم تھی کیونکہ اب وہ اپنی ٹیم۔کو یہ انفورمیشن دے کر سمگلنگ کو روک سکتا تھا ۔
وہ جان گیا تھا کہ دو دن بعد سمندری رستے سے سمگلنگ ہونے والی تھی اور وہ ٹائمنگ وغیرہ سب کچھ جان گیا تھا اور اپنی ٹیم کو انفورمیشن پہنچا چکا تھا ۔ وہ اپنے کام پر لگ گیا تھا یعنی باران کی بربادی شروع تھی کیونکہ غزین کوئی کیس ادھورا نہیں چھوڈتا تھا ۔
##############################
میم راجر نے دو آدمیوں کو پیلس کے پاس سے پکرا ہے ۔ بہت مارنے کے بعد وہ مانے ہیں کہ دوسری پارٹی نے ہی انہیں آپ پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا ہے ۔ اب آپ بتا دیں ان دونوں کا کیا کرنا ہے ؟؟ جینی اس کے کمرے میں کھڑی اسے انفرمیشن دے رہی تھی ۔ کرنا کیا ہے مار کر انہیں ان کو بھیجنے والوں کے پاس پہنچا دو ۔
اور ہاں ساتھ ایک چٹ پر لکھ کر ضرور بھیجنا کہ داریہ سے اس کا کنگڈم چھیننا اتنا آسان نہیں ۔ ہمت ہے تو خود لڑے معمولی کیڑوں کو نہ لائے جنگ کے درمیان ۔ داریہ شیشے کے سامنے بیٹھی اپنے بال بناتی بولی ۔ میم آپ کو نہیں لگتا آپ اس معاملے کو بہت ایزی لے رہی ہیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے بلکہ آپ کو ان کو اچھے سے مزہ چکھانا چاہیے ۔
جینی نے فکرمندی سے کہا تو داریہ ہس پڑی ۔ جینی تم اپنی اور راجر کی شادی کی تیاری کرو یہ سب میں دیکھ لوں گی ۔ داریہ برش ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتی کھڑی ہوئی اور جینی کو کندھوں سے تھامتی بولی تو جینی اوکے میم کہتی وہاں سے چلی گئی ۔
###############################
وہ کچن میں کھڑی جلدی جلدی ہاتھ چلاتی اٹیلین پاستا بنا رہی تھی کیونکہ آج باران جلدی گھر آگیا تھا اور اس کے ساتھ تین آدمی بھی تھی جن کے لیے وہ پاستا بنا رہی تھی ۔ وہ سب ایک کمرے میں بیٹھے تھے نا جانے کیا باتیں کر رہے تھے یہ سوچ سوچ زحلے کو بے چینی ہو رہی تھی ۔
کیونکہ اسے لگ رہا تھا وہ باران کے سمگلنگ پاٹنر تھے ۔ رحمان آپ ادھر بیٹھو زحلے ابھی واپس آتی ہے اور پھر آپ کو اپنے ہاتھوں سے مزے مزے کا پاستا کھلائے گی ۔ وہ رحمان کو مسکرا کر کہتی کمرے سے نکل گئی جبکہ کچن سلف پر بیٹھا رحمان اس کی بات پر سر ہلاتا واپس موبائل پر کارٹون دیکھنے لگا ۔
وہ سر پر اچھے سے ڈوپٹہ لیے ہاتھ میں پاستا کی ٹرے پکرے اس کمرے میں داخل ہوئی تو دھوئیں کی سمل نے اسے کھانسنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ اس کے کھانسنے پر وہاں موجود باران اور باقی تین لوگ اس کی جانب متوجہ ہوئے تھے ۔ جہاں باقی تینوں کی آنکھیں اس کی خوبصورتی دیکھ کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں وہیں باران نے غصے اور ضبط سے مٹھیاں میچی تھیں ۔
وہ بمشکل سانس لیتی ان کے پاس پہنچی جو کمرے میں موجود اکلوتی ٹیبل پر بیٹھے تاش کھل رہی تھے جبکہ ہر ایک کے سامنے ایک ایک گلاس اور وائن کی بوتل پڑی تھی اور سب لوگ ہی سیگریٹ بھی پی رہے تھے ۔
سر یہ آپ کے لیے سپیشل پاستا ۔ وہ مسکرا ان سب سے کہتی ٹیبل پر پاستا رکھنے لگی جبکہ ان ادمیوں کی حوس بھری نگاہیں اس پر ہی تھیں ۔ ۔ جاؤ یہاں سے ۔
اچانک باران کی سرد آواز پر وہ حیران ہوتی اسے دیکھنے لگی جو لال آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔ بس سر یہ سرو کر کے جاتی ہوں ۔ وہ مسکرا کر بولی تو باران غصے سے تاش کے پتے پھینک ٹیبل پر ہاتھ مارتا کھڑا ہوا ۔ سنائی نہیں دیا تمہیں میں نے کیا کہا؟ جاؤ یہاں سے ابھی کے ابھی ۔ وہ چیخ کر بولا تو سب لوگ ہی حیران ہوئے تھے جبکہ زحلے اس کے غصے سے خوفزدہ ہوتی بھاگتے ہوئے کمرے سے نکل گئی ۔
اپنا اپنا پاستا خود ڈال لو اور تاش کی بازی دوبارہ شروع کرتے ہیں ۔ وہ دوبارہ نارمل ہوتے واپس بیٹھ کر بولا تو سب نےاپنی تاش کے پتے اس کے حوالے کیے تھے ۔ وہ ابھی تاش کو اوپر نیچے کر رہا تھا کہ اس کے ایک پاٹنر جس کی آنکھوں سے زحلے کا چہرہ جا ہی نہیں رہا تھا اس نے باران کو مخاطب کیا ۔
سنو باران یہ تمہاری کام والی تو بڑی حسین ہے کہاں سے لائے ہو تم ایسی حسینہ کو وہ بھی کام کرنے کے لیے ؟؟ مجھے بیچو گے ؟؟ دل آگیا ہے میرا اس پر منہ مانگی قیمت دوں گا بس اس حسینہ کا حسن میرا ہو جا۔۔۔۔۔۔۔ وہ آدمی ابھی اپنی حوس بھری آنکھوں کو بند کیسے زحلے کو یاد کرتا بول رہا تھا کہ باران جس سے اس کے منہ سے زحلے کا زکر برداشت نہ ہوا تھا اس نے تاش کا ایک پتہ سپیڈ سے اس کی جانب پھینکا تھا جو سیدھا اس آدمی کی شاہ رگ کو چیرتا گزرا تھا اور اس کی بات بیچ میں ہی اچک کر اسے موت کے منہ میں ڈال گیا تھا ۔
باران کے اس عمل پر باقی کے دو آدمی آنکھیں پھاڑے پریشانی سے کھڑے ہوئے تھے ۔ وہ شاید بھول گیا تھا کہ باران کے سامنے عورت کو بیچنے کی بات کرنا اپنی موت کو بلاوا دینا ہے ۔ امید ہے تم لوگ یہ غلطی نہیں کرو گے ۔ باران تاش کے پتے واپس رکھتا ان کی آنکھوں میں دیکھتا بولا تو وہ ڈر کر فوراً ہاں میں سر ہلانے لگے ۔
دفع ہو جاؤ تم لوگ بھی یہاں سے اور ہاں سمگلنگ تہہ کردہ وقت پر ہو گی اور اس کی ڈیڈ بوڈی بھی لیتے جاؤ مجھے کچرا پسند نہیں میرے گھر میں ۔ وہ کرسی سے کھڑا ہوتا اپنے کورٹ کی پاکٹ میں ہاتھ ڈالتا سرد مہری سے بولا تو وہ دونوں جلدی سے سر ہلاتے اس آدمی کی باڈی کو اٹھا کر وہاں سے نکل گئے تھے ۔
زحلے جو کچن میں رحمان کو پاستا کھلا رہی تھی اور باران کے رویے کو سوچ رہی تھی ان امیوں کو جاتے دیکھ نہیں پائی تھی ۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial