میں اسیرِ محبت ہو گیا

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 9

اٹھو لڑکے اوئے تمہیں سن نہیں رہا کیا ؟؟ اٹھو جلدی اور نیچے او ناشتہ کرنے کے لیے بعد میں نہیں ملے گا ۔ داریہ کب سے ذزان کو اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی جبکہ ذزان تو ڈھیٹ بنے لیٹا ہوا تھا لیکن جیسے ہی داریہ نے کہا کہ بعد میں ناشتہ نہیں ملے گا تو وہ فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا تھا ۔
یہ کہاں کا رول ہے کہ ناشتہ ایک ہی وقت پر سرو ہو گا بعد میں نہیں ؟ اور اتنی صبح کون اٹھتا ہے ؟؟ ذزان آنکھیں مسلتا بولا جبکہ بال اس کے بکھر کر ماتھے پر آ رہے تھے ۔ کہا تھا نہ کہ یہاں رہو گے تو رولز ماننے پڑیں گے تو یہ اس پیلس کا رول ہے کہ ناشتہ لنچ اور ڈنر تہہ کردہ وقت پر ٹیبل پر سرو ہوتے ہیں بعد میں کسی کو کھانا نہیں ملتا ۔
اور جسے تم اتنی صبح کہہ رہے ہو نہ گیارہ بج رہے ہیں ۔ اٹھو جلدی منہ دھو کر آؤ ۔ ناشتے کے بعد میں تمہیں شاپنگ پر لے کر جاؤں گی ویسے بھی باہر بہت زیادہ برف باری ہو رہی ہے آج اس لیے جلدی جا کر جلدی آئیں گے ۔
داریہ اسے مکمل حدایت دیتی اس کا کمبل بھی کھینچ کر سائیڈ پر رکھے گئے صوفے پر پھینک گئی تھی جبکہ کمبل اترتے ہی ہیٹر چلنے کے باوجود ذزان کا جسم سردی سے کپکپا گیا تھا ۔ روسیا یعنی روس سرد ترین ممالک میں شامل ہوتا ہے ۔ وہاں اتنی سردی پرتی ہے کہ کپ میں کافی ڈالتے ڈالتے جم جاتی ہے ۔ روس کے تمام دروازے اندر کی جانب کھلنے والے بنائے جاتے ہیں کیونکہ وہاں کچھ ہی گھنٹوں میں دو میٹر تک برف پڑ جاتی ہے ۔
روس کے موسم کی طرح وہاں کے لوگ بھی سرد مزاج ہی ہوتے ہیں ۔ وہ مہمان نواز تو ہوتے ہیں مگر روسی لوگ مسکراتے نہیں ہیں وہاں کے سکول میں بچوں کو باقاعدہ نہ ہسنے کی تعلیم دی جاتی ہے ۔ وہ لوگ پیسے ہاتھ میں پکرانا اپنی توہین سمجھتے ہیں ۔
شاید ایسا اس لیے ہے کہ روس دنیا کا سب سے بڑا اور واحد ملک ہے جہاں بڑے سے بڑے ملک بھی اپنی حکومت قائم نہیں کر پائے اور اس لیے وہ مغرور ہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ داریہ نے اپنے مافیا کنگڈم کے لیے روسیا کو چنا کیونکہ اسے پسند تھا ایسا ملک جہاں پر کسی دوسرے ملک کی حکومت نہ چلے اور اس کے کام میں رکاوٹ نہ آئے ۔ کیونکہ وہ خود بھی آزادی پسند تھی ۔
###############################
بات سنو وائفی کیا تمہارا پکا ارادہ ہے مال جانے کا ؟؟ دیکھو باہر بہت زیادہ برف پر رہی ہے تو میں کہتا ہوں رہنے دو کیا ضرورت ہے آج جانے کی ہم پھر کبھی چلے جائیں گے جس دن برف نہ پڑے ۔ ناشتہ کرتے ہوئے ذزان نے چاپلوسی والے لہجے میں داریہ سے کہا تو داریہ نے اسے گھور کر دیکھا تھا ۔
یار ایسے نہ گھورا کرو ان قاتل نگاہوں سے میرا دل بہت کمزور ہے ۔ ذزان دل پر ہاتھ رکھتا ٹھرک پن سے بولا تو داریہ نے ہاتھ میں پکڑا فورک سیدھا ذزان کی جانب پھینکا تھا جبکہ ذزان نے فوراً چہرہ جھکاتے اپنا بچاؤ کیا تھا ۔ یہ کیا تھا لڑکی ؟؟ کیوں میرے حسین چہرے کی دشمن بنی ہوئی ہو ؟؟ ذزان نے پہلے جو ٹھرک پن میں دل پر ہاتھ رکھا تھا اب وہی ہاتھ ڈر کے مارے دل کے زور سے دھڑکنے کے سبب رکھا تھا ۔
دوبارہ مجھ سے فلرٹ کی کوشش نہ کرنا ۔ داریہ نے اسے اپنی لمبی اور پتلی انگلی سے وارن کرتے کہا ۔ میں کیوں فلرٹ کروں گا اپنی ہی بیوی سے ؟؟ کچھ ماہ کی ہی سہی مگر بیوی تو ہو نہ ۔ ویسے پتا کیا میں جب سے یہاں آیا ہوں میں نے کہیں پر بھی کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی مگر پھر ایک دن تم ملی ۔
تم جیسی خوبصورت لڑکی کہیں نہیں دیکھی میں نے ۔ اور یہ تعریف تھی فلرٹ نہیں ۔ ذزان کی بیوی والی بات پر داریہ کو خود کو پھر سے غصے سے گھورتا دیکھ وہ بات بدل گیا مگر اس بات میں بھی فلرٹ ہی تھا اس لیے جلدی سے خود کو کلئیر کرنے لگا ۔ تمہیں شاید پتا نہیں روس خوبصورتی کے معاملے میں بہت مشہور ہے ۔
یہاں کی لڑکیوں کی خوبصورتی ایسی ہے کہ دیکھنے والے پلک جھپکنا بھول جائیں ۔ اور تم کہہ رہے ہو کہ تم نے کوئی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی ۔ آخری بار کہہ رہی ہوں فلرٹ کرنا بند کرو اور چلو اب مال چلیں ۔
داریہ نے ڈائنگ ٹیبل سے کھڑے ہوتے ذزان کا جھوٹ پکرتے کہا تو وہ بےشرموں کی طرح دانت نکالنے لگا ۔ مگر جیسے ہی داریہ نے مال کا نام لیا اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی ۔ اللہ وہ لڑکی واقع اسے برف باری میں باہر لے کر جا رہی تھی ۔
###############################
وہ جب سے آئی تھی رحمان کے ساتھ کھیل رہی تھی ۔ اسے یہ بچہ بہت پیارا لگ رہا تھا ۔ اور وہ بھی رحمان کی گڈ بک میں شامل ہو گئی تھی ۔ تقریباً کوئی دو سے تین گھنٹے کھیلنے کے بعد رحمان تھک گیا تو زحلے نے اسے فیڈر بنا دیا تھا جسے وہ پیتے پیتے سو گیا اور زحلے کو اپنا کام کرنے کے لیے وقت مل گیا تھا ۔
باران کے کمرے کو وہ دیکھ چکی تھی اور یہ بھی دیکھ چکی تھی کہ اس کے کمرے کے باہر فنگر پرنٹ لاک لگا تھا اس لیے یہ ناممکن تھا کہ وہ اندر جا کر کیمرے فٹ کر پاتی اس لیے لاؤنچ اور لابی میں کیمرے فٹ کرنے تھے اسے ۔ سب سے پہلے وہ اپنے بیگ سے ایک ائیر پوڈ نکالتی کان میں لگا چکی تھی تاکہ غزین سے معلومات لے سکے ۔
اس کے ائیر ڈیوائس کان میں لگاتے ہی غزین بھی دوسری طرف ایکٹیو ہو گیا تھا ۔ ہاں زحلے کیا اس وقت کوئی ہے تو نہیں تمہارے ارد گرد ؟ غزین نے ایکٹیو ہوتے ہی پوچھا ۔ نہیں اب مجھے بتاؤ کہ لاؤنچ کے ہر کورنر میں لگاؤں کیمرے یاں ایک دو ہی بہت ہیں ؟؟
زحلے نے ہاتھ میں پکڑے کیمروں کو دیکھتے ہلکی آواز میں پوچھا جو ایک سینٹی میٹر سائیز تک کے تھے ۔ پہلے تم نے کنفرم کیا کہ یہاں پہلے سے کوئی کیمرہ نہ لگا ہو ؟؟ غزین کی بات پر زحلے نے پھر سے ادھر ادھر نظر گھمائی تھی ۔ نہیں یار پہلے بھی چیک کر چکی ہوں کوئی کیمرہ نہیں یے یہاں ۔ زحلے کے جواب پر غزین کو سکون آیا تھا ۔
چلو پھر پہلے ایک کیمرہ وہاں پر رکھے کسی شو پیس یاں گلدن میں لگا دو چھپا کر ۔ غزین کی بات پر زحلے نے پورے لاؤنچ میں نظریں گھمائی تھیں اور پھر اس کی وہاں پر لگی ایک پینٹنگ پر نظر گئی جس پر گھوڑا بنا ہوا تھا ۔ ہاں رکو میں لگاتی ہوں ۔ وہ غزین سے کہہ کر اس پینٹنگ کے پاس پہنچی اور اس کے ایک کورنر میں کیمرہ اس طرح سے فٹ کیا کہ کسی کو نظر نہ آئے ۔ ہاں کرو چیک ۔
زحلے نے کہا تو غزین نے اپنے سامنے لیپ ٹاپ اپنے کرتے اس کیمرے کی ریکوڈنگ اوپن کی مگر وہاں سب کچھ بلیک ہی تھا ۔ زحلے تم نے لگتا ہے کیمرہ ان نہیں کیا ۔ غزین نے لیپ ٹاپ کو دیکھتے کہا ۔ نہیں تو ان کر دیا ہے ۔
تم لیپ ٹاپ پر دیکھو کوئی پروبلم تو نہیں۔ وہ کیمرہ چیک کرتی بولی ۔ دوسرا لگا کر دیکھو ۔ غزین کے کہنے پر زحلے نے اسے ہٹا کر دوسرا لگایا مگر پھر وہی رزلٹ ۔
غزین نے حیران ہوتے ساری سیٹینگ چیک کی مگر پھر اچانک اس کی آنکھیں پھیلی تھیں ۔ شٹ یار ! زحلے میری بات سنو یہ جو کیمرہ لگایا ہے اور جو باقی ہیں یہ سب واپس چھپا دو کیونکہ اس گھر میں کچھ ایسا سسٹم کیا گیا ہے کہ اگر کوئی کیمرہ لگایا گیا تو وہ کام نہیں کرے گا ۔ غزین کی بات پر زحلے کو بھی حیرت ہوئی تھی جبکہ غصہ دونوں کو ہی آرہا تھا اپنے ایک پلین کے فیل ہونے پر ۔
###############################
داریہ پلیززز مجھے اپنا کورٹ دے دو مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔ ذزان جس نے پھر سے داور کے کپرے پہن رکھے تھے اور ایک دبل جیکٹ نیچے سے پہننے کے بعد اوپر سے ایک لونگ کورٹ پہنے سر پر ٹوپی ، کانوں اور آدھے چہرے کو مفلر سے چھپائے اور ساتھ ہاتھوں پر ڈبل گلوز چڑھانے کے بعد بھی وہ سردی سے کانپتے داریہ سے اس کا اکلوتا کورٹ مانگ رہا تھا ۔
داریہ نے بلیک پینٹ شرٹ پر ریڈ لونگ کورٹ پہن رکھا تھا کھلے بالوں پر اس نے ٹوپی پہن کر انہیں خراب نہیں کیا تھا مگر گلے میں مفلر ضرور تھا ۔ شرم کرو بدتمیز انسان اتنا کچھ پہن کر ریچھ لگنے کے باوجود تم مجھ سے میرا اکلوتا کورٹ مانگ رہے ہو ۔
لڑکے تو اپنا کورٹ اتار کر لڑکیوں کو دیتے ہیں اور تم زمین پر بوجھ ایک لڑکی سے مانگ رہے ہو ۔ داریہ نے اسے شرم دلاتے کہا وہ مال کے انڈر گراؤنڈ پارکینگ ایریا سے لفٹ کی جانب جا رہے تھے ۔ یار میں کہاں اتنی سردی کا عادی ہوں ۔
تین ماہ پہلے ہی تو آیا ہوں یہاں تو ابھی عادی نہیں ہوا میں اس ہڈیوں کو جما دینے والی سردی کا ۔ میں تو پاکستان سے آیا ہوں اور تھا بھی کراچی کا جہاں سردی بس ایسے آتی ہے جیسے بس بتانے آئی ہو کہ دنیا میں موجود چار موسموں میں سے میں بھی پائی جاتی ہوں ۔ وہ سردی سے کانپتا بولا جبکہ دانت سردی سے بج رہے تھے ۔ ڈونٹ وری بس یہاں سے جب مال میں داخل ہوں گے تو سردی نہیں لگے گی کیونکہ ہر طرف ہیٹر لگے ہیں ۔
داریہ کی بات پر ذزان کو سکون آیا تھا ۔ چلو آج تم جو چاہے لے سکتے ہو جس چیز پر تمہارا دل آئے اسے تم اٹھا لو ۔ داریہ نے مال میں داخل ہوتے ہی ذزان سے کہا ۔ ارے واہ تم تو بڑے کھلے دل کی ہو یار ۔ ویسے کیا واقع سارا بل تم دو گی ؟؟ ذزان نے خوشی اور حیرت سے ملی جلی کیفیت سے پوچھا ۔
بل مجھے دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مال میرا ہے ۔ داریہ نے اپنے چلتے قدموں کو روکتے ذزان کو دیکھ کر کہا تو ذزان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی تھیں ۔ نہ کرو یار سچ میں ؟؟ ذزان تو بے یقینی کے سبب بےہوش ہونے پر تھا ۔ ہاں بلکل ۔ داریہ واپس سے چلنا شروع کرتی بولی تو ذزان اس کے پیچھے تیز تیز قدم چلنے لگا ۔
ویسے ایک بات تو بتاؤ یار کہ تم نے مال ہی کیوں بنوایہ تم کوئی فیکٹری یا آفس بھی بنا سکتی تھی ؟؟ ذزان کے سوال پر داریہ نے ترچھی سمائیل دی تھی ۔ مجھے بزنس کی سمجھ ہے لڑکے ۔ یہ روس ہے یہاں عورتیں مردوں سے تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور یہاں کی عورتیں فیشن کی دیوانی ہیں ۔ انہیں نئے کپڑے پہننا فیشن کرنا بہت پسند ہے اس لیے وہ شاپنگ کی دیوانی ہیں ۔
تو ایسے میں مال کا رخ ہی کرتی ہیں ۔ تو بتاؤ کہ کس چیز میں فائیدہ ہوا ؟؟ داریہ نے آئی برو اچکاتے پوچھا تو ذزان جس کی داریہ کی تفصیل پر حیرت سے آنکھیں اور منہ کھلا تھا اس نے یوں ہی کھلے منہ اور آنکھوں سے اسے دیکھتے کلیپنگ کی تھی ۔
واؤ یار تم تو سوپر ہٹ ہو ۔ میں تو آج جم کر شاپنگ کروں گا آخر فری کا مال مل رہا ہے اور پھر تمہارے بھائیوں سے بھی ملنا ہے اچھے سے تیار ہوں گا تو انہیں پسند بھی آؤں گا ۔ وہ خوشی سے کہتا وہاں سے بھاگ کر میل کلیکشن کی شوپ میں گھس گیا جبکہ داریہ سر جھٹکتی ہیلز کلیکشن کی طرف بڑھ گئی ۔
###############################
باران رات کے نو بجے تھکا ہارا گھر آیا تو سامنے ہی لاؤنچ کے صوفے پر زحلے کو آنکھیں بند کر کے صوفے کی بیک سے ٹیک لگائے بیٹھا دیکھ وہیں داخلی دروازے میں ہی کھڑا ہوگیا ۔ زحلے کو سوتا دیکھ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ بکھری تھی ۔ آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے وہ صوفے تک پہنچا تھا اور اسے قریب سے بس خاموشی سے دیکھنے لگا ۔
وہ سارا دن بور ہوتی صوفے پر بیٹھی کب سو گئی اسے پتا ہی نہ چلا مگر اچانک اپنے چہرے پر نظروں کی تپش محسوس کرتے اس نے ہلکے سے آنکھیں کھولیں تو باران کو سر پر کھڑا دیکھ ایک دم ڈر گئی ۔ س۔۔سر آ۔۔آپ کب آئے ؟؟ وہ جلدی سے کھڑی ہوتی اپنا ڈوپٹہ سہی کرتے پوچھنے لگی ۔ ابھی آیا ہوں خیر رحمان کہاں ہے ؟؟
باران نے بات گھمانے کے لیے رحمان کا پوچھا ۔ سر وہ سو گئے ہیں ۔ زحلے کے جواب پر وہ حیران ہوا ۔ اتنی جلدی ؟؟ جی سر وہ پہلے آپ کے جانے کے دو گھنٹے بعد سوئے تھے مگر پھر ڈیڑھ گھنٹے تک اٹھ گئے تھے اور سارا دن کھیلتے رہے اس لیے تھک کر ابھی آدھے گھنٹے پہلے سوئے ہیں ۔
زحلے کے تفصیلی جواب پر باران سر ہلاتا آگے بڑھ گیا ۔ سر کھانا لگاؤں ؟؟ زحلے نے پیچھے سے آواز دیتے پوچھا ۔ ہمم لگا لو میں آتا ہوں فریش ہوکر ۔ وہ بنا پلٹے اسے کہتا سیڑھیاں چڑھ گیا جبکہ زحلے انکھیں گھماتی کچن کی طرف بڑھ گئی ۔
###############################
اسے زحلے کے ہاتھ کا کھانا بہت پسند آیا تھا اور آج اس نے کئی سالوں بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا تھا ۔ کھانا اچھا بنایا ہے تم نے مجھے پسند آیا ۔ وہ نیپکین سے منہ پونچھتا بولا تو زحلے نے مسکرا کر تعریف وصول کی تھی ۔ رحمان نے کھانا کھایا تھا ؟؟
اس نے اچانک سوال پوچھا تو زحلے نے فورآ سر ہلایا ۔ جی سر کھلا کر سلایا تھا ۔ زحلے کے جواب پر وہ مطمئن ہوتا چئیر سے اٹھ کھڑا ہوا ۔ ٹھیک ہے تم اپنے کمرے میں چلی جاؤ ان برتنوں کو سمیٹ کر تمہارا کام ختم ۔ وہ اسے کہتا ٹیبل پر رکھا اپنا موبائل اٹھا کر وہاں سے چلا گیا جبکہ زحلے جلدی سے برتن سمیٹنے لگی ساتھ ساتھ اس کی زبان بھی چل رہی تھی ۔
اللہ اللہ مجھے تو سمجھ نہیں آتی وہ پیارا سا فرشتہ ان شیطانوں کے پاس کہاں سے آگیا ؟؟ میرا بس چلے تو اس بچے کو ان سے دور لے جاؤں تاکہ اس کی معصومیت نہ خراب ہو ۔ وہ برتن سینک میں رکھتی بازو اوپر کرتی منہ ہی منہ بول رہی تھی لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ اس ننھے فرشتے میں ان تینوں شیطانوں کی جان تھی ۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial