قسط 25
شام کے پانچ بجے کا وقت ہو رہا تھا شاہدہ بیگم صحن میں بیٹھی چاول صاف کر رہی تھی جب مایا ان کے لیٸے چاۓ کا کپ لے أٸی!!
أنٹی چاۓ !! مایا نے شاہدہ بیگم کی جانب کپ أگٸے کیا شاہدہ بیگم چاول کی تھالی سے سر اٹھا کر وہ مایا کو تعجب سے دیکھنے لگٸی تھیں !!
کوٸی جواب دے بغیر وہ پھر سے چاولوں کو صاف کرنے میں مصروف ہوگٸی!! مایا نے چاۓ کا کپ پاس ہی ٹیل تھا اس پر رکھا اور زمین پر بیٹھی وہ بھی تھالی سے چاول صاف کرنے لگٸی شاہدہ بیگم اس کی حرکتیں دیکھ رہی تھی کہ وہ کیسے بس ان سے بات کرنے کا بہانہ ڈھونڈہ رہی ہے!
بولو کیا بولنے أٸی ہو!إ! شاہدہ بیگم نے چاولوں کو صاف کرنے والا ہاتھ روک کر اسے دیکھ سخت لہجے میں پوچھا!
مایا نے چاول سے ہاتھ روک کر شاہدہ بیگم کو چونک کر دیکھا تھا!!
أنٹی میں بس أپ سے اتنا کہنا چاہتی ہوں إ! کہ مجھے ایک موقع أپ دیں میں خود کو أپ کی اچھی بہو سابت کروں گٸی پلیززز !!
أپ خود ایک عورت ہیں أپ اس بات کو اچھے سے جانتی ہوگٸی ہر لڑکی کو اپنی شادی کو لیکر کہیں خواب سجاتی ہیں !!! میرے بھی کہیں خواب تھے !! میرے ہاتھوں میں بھی مہندی لگٸے دلہن بنوں سرخ جوڑا پہنوں !!! مایوں میں بیٹھوں اور سب ہی باری باری مجھے ہلدی لگانے أٸیں !! نکاح کے وقت میرا ڈیڈ کے چہرے پر خوشی ہو !! قبول کہتے وقت ان کا شفقت بھرا ہاتھ میرے سر پر ہو!!
ڈیڈ کے چہرہ پر تو خوشی تھی لیکن میں پہلی ایسی لڑکی ہوں جس کی شادی ھوسپیٹل میں ہوٸی ہوگٸی !! جب میں اپنی نٸی زندگی میں قدم رکھ رہی تھی __تب میرے ڈٸیڈ ھوسپیٹل کے بیڈ پر وہ اپنی أخری سانسیں لیں رہے تھے کوٸی انداز نہیں لگا سکتا مجھے کتنی تکلیف ہوٸی تھی تب !!
اور أنٹی أپ کو پتا ہیں میں جب چھوٹی تھی نہ تبھی میری مام دنیا چھوڑ کر چلی گٸی تھی !!
مام کے جانے کے بعد ڈیڈ نے میرے لیٸے دوسری شادی نہیں کہ شادی کرتے تو انہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں میری سوتیلی ماں میرے ساتھ بُرا سلوک نہ کریں!!! ہر وقت تو ڈیڈ گھر پر نہیں تھے اسلیٸے جب ڈیڈ کو ھوسپیٹل میں معلوم ہوا کہ وہ کینسر کے لاسٹ سٹیج پر ہے!! اس پل انکو ایک میرا بھی ڈر تھا کہ نہ میرا کوٸی بہن بھاٸی ہیں اور نہ ہی مام اور وہ خود بھی چلے جاۓ گٸے ! أج کل کے دور میں اکیلی لڑکی کو لوگ جینے نہیں دیتے !! أنٹی ڈیڈ کو یارم پر بہت اطمنان تھا میرا ہاتھ اسلیٸے یارم کے ہاتھ میں دیا!!
بچپن سے ہی مام کے پیار سے محروم رہی میں کبھی جان سکی ہی نہیں کہ ماں کا پیار ہوتا کیا ہے ماں باپ بن کر ڈیڈ نے مجھے لاڈ سے پالا !!
أپ پلیززز مجھے سے بدگمان نہ ہو اور یارم سے بھی ناراض نہیں ہو أپ جو بھی جیسا بھی بولو گٸی میں ویسا کروں گٸی بس أپ ہم دونوں سے ناراض نہ ہو
مایا شاہدہ بیگم کا ہاتھ پیار سے تھام کر ان کی أنکھوں میں دیکھ کر بولی تھی ماں باپ کی یاد سے اس کی أنکھیں نم ہوگٸی تھیں !!
اچھا جو میں بولوں گٸی وہ تم کروگٸی !!
شاہدہ بیگم نے مایا کا ہاتھ جھٹک دیا اور تلخ انداز میں اسے گھور کر کہا تھا!!
مایا نے سر اثبات میں ہلایا اور أنکھوں میں أٸی نمی کو صاف کیا!!
یارم سے کہو کہ تمھیں اس سے طلاق چاہیے تم اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی!!
شاہدہ بیگم کے الفاظ تھے یا بم جو کہ مایا کے سر پر پڑا تھا وہ بے یقینی سے شاہدہ بیگم کو دیکھ رہی تھیں!! طلاق کی بات سُن کر اس کا پورا وجود لرز گیا تھا اس سے لگا تھا کہ اس کی روح نکل گٸی ہے جسم سے وہ شاکت تھی!!
اب کیا ہوا ابھی تو بڑے دعوۓ کر رہی تھی!! کہ أنٹی أپ جو بولو گٸی وہ میں کروں گٸی تو اب کیا ہوا بولو چھوڑو گٸی نہ میرے بچے کی جان!!
شاہدہ بیگم اس کا درعمل چیک کر رہی تھی کہ وہ أخر جواب کیا دۓ گٸی!!
ا ا ن أنٹی أگر ایسے أپ کو خوشی ملتی ہے تو ٹھیک ہیں جیسا أپ نے بولا ہیں میں ویسے کروں گٸی
اس کا پورا وجود کپکپا رہا تھا ہاتھوں کی کپکپاہٹ شاہدہ بیگم نے بنوز دیکھی تھیں !!
وہ وہی بُت بنی خاموش أنسوں بہا رہی تھی اور شاہدہ بیگم چاول کی تھالی ٹیبل پر رکھتی اٹھ کھڑی ہوٸی تھی !! اور وہاں سے جانے لگٸی تھی کہ ایک بار پیچھے مڑ کر مایا کو دیکھا جو سر نیچھے جھکاۓ أنسوں بہا رہی تھی اس سے لگا شاہدہ بیگم چلی گٸی ہے اسلیٸے وہ پھوٹ کر رونے لگٸی!!
روٶں مت نہیں کروا رہی تمھارا طلاق اپنے بیٹے سے !!! تمھیں ایک موقعہ چاہیے نہ خود کو میری بہو سابت کرنے کا تو ٹھیک ہیں إإ دیا تمھیں ایک موقعہ اور ہاں میں اتنی بے رحم ساس نہیں ہوں جو بہو کو کہوں کہ میرے بیٹے سے طلاق لو میں بس تمھیں أزماں رہی تھی!!
شاہدہ بیگم نے سنجیدگی سے کہا تھا مایا شاہدہ بیگم کو دیکھ رہی تھیں اور فوراً أنکھیں صاف کی ہلکی مسکان شاہدہ بیگم کو دیکھ اس کے چہرہ پر أٸی تھی !!
شاہدہ بیگم سیڑھیوں کو عبور کرتے اوپر جا رہی تھی جب کچھ یاد أنے پر پلٹ کر مایا سے استفسار کیا!
یہ چاول کا ٹپ کچن میں رکھ کر چاۓ میرے کمرے میں لیں أٶ!!
شاہدہ بیگم اتنا کہتی اوپر کمرے کی جانب چلی گٸی تھی مایا کو ایک کرن دیکھاٸی دی تھیں خود کو شاہدہ بیگم کی نظروں میں اچھا بنانے کی !
مایا نیچھے سے اٹھی تھی چاول کی تھالی کچن میں رکھ کے
پھر چاۓ کا کپ لیکر مسکراہتی شاہدہ بیگم کے کمرے کی جانب چل دی!!
ہاں بولو !!
ولید بخش چوہدری جیسے کمرے میں داخل ہوا تھا اس کا موباٸل بج رہا تھا کال ریسیو کرتے موباٸل کان سے لگایا !!
سردار جی أپ کا کام ہوگیا ہے ہم نے ارحام سلطان کی گاڑی کے بریک فیل کر دیٸے ہیں اب وہ نہیں بچ پاٸیں گا !!
مقابل کی خوش ہوتی أواز سے ولید بخش چوہدری کو اطلاح دی!
پہلے بھی وہ بچ گیا تھا تب بھی تم لوگوں نے اس کی گاڑی کے بریک ہی فیل کیے تھے!!
ولید بخش چوہدری نے سخت لہجے میں کہا تھا!
سردار جی لیکن اس بار گاڑی کے بریک فیل کے ساتھ پیٹرول کی ٹنکی کا پمپ بھی کاٹا ہیں اگر وہ اتفاق سے بریک فیل سے بج بھی گیا تو اس کی گاڑی کا زور دار دھماکا ہوگا اور ارحام سلطان کا دنیا سے ہمیشہ کے لیٸے پتا کٹ جاٸیں گا !!!
جیسے مقابل کی بات سُنی ولید بخش چوہدری نے زور سے قہقہ لگایا!!
بڑا اکر رہا تھا نہ اس دن میرے سامنے جو بھی میرے سامنے زبان چلاتا ہے میں اس کا یہی انجام کرتا ہوں __ دل سے دعا کروں گا تمھارے لیٸے ارحام سلطان اللہ پاک تمھیں جہنم میں جگہ دیں أمین !!
کال کٹ کرتے ہی ولید بخش چوہدری نے حقارت بھرے انداز میں کہا
وہ شاید بول گیاتھا کہ اللہ پاک نا انصافی کبھی نہیں کرتا اس کا انصاف دیر سے ہی سہی مگر جب ہوتا ہے نہ چالاکیاں کرنے والوں کی چالاکیاں دہری کی دہری رھ جاتی ہیں !!
ارحام ہاتھ دو !!
ارحام کا دیا گیا کام ضاور نے جلدی سے چھوڑایا تھا اور جلدی میں ٹیکسی لیکر اس کی گاڑی کا پھیچاں کرتے اس تک پہنچاں تھا اس سے پتا تھا کہ ارحام کی جان کو خطرہ ہے ہاں ارحام اپنی جان کو لیکر اتنا سیریس نہیں تھا لیکن ضاور نگرانی کر رہا تھا ارحام پر
ارحام کی گاڑی بُری طرح پیڑ سے جا لگی تھی وہ گاڑی میں پھسا ہوا تھا اس بات سے بے خبر کہ گاڑی کا پیٹرول بہہ رہا ہے ضاور نے ہاتھ أگٸے کرتے ارحام سے کہا تھا!!!
ارحام نے زخمی ہاتھ دھیرے سے اس کے ہاتھ میں دیا تھا وہ ابھی پوری طرح بیھوش نہیں ہوا تھا!__ ضاور نے کھینچ کر اسے باھر نکالا تھا اور ڈر سے اس سے گلے لگایا تھاإ
ارحام کو کھونے کا خیال ہی ضاور کو تڑپ دیتا تھا ضاور نے اس سے کندھے سے سہارا دۓ کر گاڑی سے بہت دور کیا اور اچانک ہی گاڑی بلاسٹ ہوگٸی ضاور پھٹی أنکھوں سے پیچھے دیکھا اور سوچنے لگا کہ اگر کچھ دیر اور وہ وہاں کھڑے ہوتے تو ان کی موت پکی تھیں إإ
ضاور نے ارحام کو دیکھا جس کے سر سے بازٶں سے خون ندی کی طرح بہہ رہا تھا کہ اچانک ملی بھی ارحام کی گاڑی کو دیکھ کر وہاں أگٸی اور ان دونوں کو دیکھ کر بھاگتی ان کے پاس أ کھڑی ہوٸی
یہ کیسے ہوا ضاور __ ملی ارحام کو ضاور کے گلے لگتا دیکھ کر بولی
ارحام جو خون میں لت پت تھا وہ بہت زیادہ گھبرا گٸی تھی کبھی بھی انہیں ایسی سچویشن پیش نہیں أٸی تھی کیونکہ ارحام اپنے دشمنوں پر ایسے نظر رکھتا تھا کہ وہ چاھ کر بھی اسے نقصان نہیں پہنچاں پاتے تھے إإ
ملی ابھی یہ بات کرنے کا وقت نہیں جلدی کرو ہمھیں ابھی ارحام کو جلد سے جلد ھوسپیٹل لیں جانا ہوگا ارحام کا بہت خون بہہ رہا ہے!!__
ضاور نے پریشانی سے ملی کو دیکھا کہا اور ملی نے بھی اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے دونوں نے ارحام کو سہارا دیا تھا اور وہ ٹیکسی میں بیٹھ گٸے تھے ضاور اور ملی ارحام کے ساتھ گاڑی میں گٸیں تھے اسلیٸے ان کے پاس اپنی گاڑی نہیں تھیں !!
ارحام ضاور کو ہاتھ دے کر اس ہی پل دنیا جہان اور اپنے زخموں سے بے خبر بیھوش ہوگیا تھا!!
ادھے گھنٹے میں وہ ھوسپیٹل پہنچھے تھے وہ دونوں ارحام کو جلدی سے اندر لے گٸے تھے!
ڈاکٹر ڈاکٹر ___ ضاور ھوسپیٹل میں یہاں وہاں دیکھ کر چلانے لگا!!
اتنا شور سن کر ڈاکٹر اور نرس بھاگتے ہوۓ ان کے پاس أٸیں!!
کیا ہوا ہیں انہیں__ ڈاکٹر نے ارحام کو خون میں لت پت دیکھ کر تعجب سے پوچھا
ڈاکٹر ایکسینڈنٹ ہوا ہیں پلیزززز ڈاکٹر ارحام کی جان بچا لیں پلیزززز
ضاور روہانسی أواز میں ڈاکٹر کو دیکھ التجھا کرنے لگا
نرس جلدی أپریشن کی تیاری کرو ____ ارحام کو ڈاکٹر اپریشن وارڈ روم میں لے گٸے فورا ہی اپنا کام شروع کیا !! وارڈ روم کے باہر ملی ضاور اللہ پاک سے دعا کرنے لگے کہ ارحام کو کچھ نہیں ہونا چاہیے وہ کتنے لوگوں کی امید تھا وہ کتنے ہی لوگوں کی جانے کی وجہ بن گیا تھا !!
ضاور تم پریشان نہیں ہو ہمھارا باس اتنا کمزور نہیں ہیں کہ اتنی جلدی ہار مان جاٸیں وہ ہار مان نے والوں میں سے نہیں دشمنوں کو شکست دینے والوں میں سے ہے!!
ملی ارحام کی حالت دیکھ کر خود بھی بہت ڈر گٸی تھی کیونکہ ارحام کا پورا وجود خون ہو گیا تھا مگر پھر بھی خود میں حوصلہ پیدا کرتی وہ ضاور کو تسلی دۓ رہی تھی!!
راٸٹ ملی ارحام کو کچھ نہیں ہوگا لیکن جس نے بھی یہ سب کیا ہے میں اس سے زندہ نہیں چھوڑا گا!__ کہیں بار ارحام کو کہاں تھا اپنے ساتھ سیکروٹی گارڈ رکھے لیکن وہ نہیں مانا اور دیکھوں أج وہ کس حال میں ہیں __ میں دادا جی بھابھی کو کال کرکے بتا دیتا ہوں
ضاور ملی کی جانب دیکھ کر کہا تو اس نے ہاں میں سر ہلایا
ضاور نے پہلے سلطان مینشن کال کرکے سب بتایا اب وہ حویلی کال کر رہا تھا عروشہا کو بتانے کے لیٸے !!!
شاہدہ بیگم ممتاز بیگم مایا زیبی کچن میں رات کا کھانے بنا رہی تھیں!!
راشد سجاد اور ولید بخش چوہدری صحن میں بیٹھے زمینوں کا کام کر رہے تھے عروشہا سیڑھیوں کو عبور کرتے نیچھے أٸی اور اب وہ کچن کی جانب جا رہی تھی جب ٹیبل پر فون بجنے لگا
باہر سے یارم اور شایان أپس میں بات کرتے صحن میں داخل ہوۓ تھے
عُروشہا نے کال اٹھاٸی!!
بھابھی ارحام کا ایکسینڈنٹ ہوگیا ہیں میں اس سے سِٹی ھوسپیٹل لیں أیا ہوں أپ یہاں جلدی پہنچھیں إ
ضاور جلد بازی سے بات بتا کر کال کاٹ دی تھی عُروشہا شاکت کی حالت میں کان پہ فون رکھی ہوٸی تھی ضاور کی بات سُن کر اس کا دماغ ماف ہوگیا تھا کتنے ہی دیر تک وہ ایک ہی پوزیشن میں کھڑی رہی ضاور کے الفاظ سن کر اس کے سر کے اوپر پورا أسمان گرا تھا إإ
ٹانگوں میں اس کی جان نکل گٸی زمین پر گری تھی شور کی أواز پر حال میں سب لوگ اس طرف متوجہ ہوۓ تھے جہاں عُروشہا زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کے رونے لگٸی اور نفی میں سر ہلاتی رہی شاید خود کو تسلی دۓ رہی تھی کہ وہ خواب دیکھ رہی ہے اتنی بھیانک حقیقت وہ قبول نہیں کرنا چاہتی تھی
یارم شایان اور صحن میں سب لوگ بھاگ کر اس کے پاس گٸے!!!
عُرو کیا ہوا تم اس طرح رو کیوں رہی ہو!!
یارم زمین پہ بیٹھ کر عُروشہا سے پوچھا مگر وہ تو بس أنسوں بہا رہی تھی باہر شور کی أواز سن کر خواتین بھی باہر صحن میں أگٸی تھیں
عُروشہا کو زمین پر پھوٹ کر روتا ہوا دیکھ کر شاہدہ بیگم بھاگ کے عروشہا کے پاس گٸی
عروشہا تم رو کیوں رہی ہو میری بچی ہوا کیا ہیں!!
شاہدہ بیگم اس کا گال تھپتھپانے لگٸی پھر بھی وہ بس روٸیں جا رہی تھی کسی کی بات کا بھی کوٸی جواب نہیں دۓ رہی تھی یہی بات سب کو پریشان کر رہی تھیں!!
شاہدہ بیگم نے اسے بازٶں سے زور سےجھنجھوڑا تب جاکر عروشہا نے ان کی جانب بھیگی نگاہوں سے دیکھا!!
ا۔م ا م امی ا ر ارحام کا ا ای ایکسنڈنٹ ہوگیا ہے وہ سِٹی ھوسپیٹل میں ہیں ابھی بھاٸی ضاور کی کال أٸی تھی إ
وہ با مشکل زبان کی لڑکھڑاہٹ پر قابو پاتی بولی سب ہی شاکت ہوگٸے تھے مگر ولید بخش چوہدری تو خوش میں جھوم اٹھا تھا اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ تھی مقصد جو اس کا پورا ہو گیا تھا
عرو رکو تم کہاں جا رہی ہو عرو رکو میں نے کہا__ عروشہا بے دماغکی سے اٹھ کر پاگلوں کی طرح باہر بھاگی وہ بس ارحام تک پہنچنا چاہتی تھی اس سے اپنے انکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی اس کا دل تھا کہ یہ سب مان نے سے انکار کر رہا تھا
یارم نے اس سے بھاگتے ہوۓ پیچھے سے کہا اور پھر یارم اس کے پیچھے بھاگا مایا شاہدہ بیگم بھی مگر وہ کسی کی بات سُنا نہیں چاہتی تھی !
سب ہی گاڑی میں بیٹھ کر ھوسپیٹل کی جانب روانہ ہوۓ ان کو ھوسپیٹل پہنچنے میں تین گھنٹے لگ گٸے تھے مگر یہ تین گھنٹے مسلسل عروشہا رو رہی تھی اور اللہ پاک سے دعا کر رہی تھی کہ ارحام کو کچھ نہ ہوا ہو!!
جیسے ہی ان کی گاڑیاں ھوسپیٹل پہنچ کر رکی تھیں عروشہا بھاگ کر اندر گٸی تھی اور یہاں وہاں پاگلوں کی طرح ضاور کو ڈھونڈہ نے لگٸی !!
ضاور ایک وارڈ روم کے باہر کھڑا پریشانی سے چکر لگا رہا تھا وہ اس جانب گٸی
ضاور بھاٸی ارحام کیسے ہیں ڈاکٹر کیا کہہ رہے ہیں وہ ٹھیک ہو جاٸیں گا نہ اس سے کچھ نہیں ہوگا ___ نہیں اس سے کیسے کچھ ہو سکتا ہے وہ کتنے لوگوں کی امید ہیں !
وہ ضاور کو روتے ہوۓ دیکھ کر کہہ رہی تھی سب بھی اس کے پاس أگٸے حیدر سلطان قربان سلطان بھی بہت پریشان تھے !!
بھابھی اندر اپریشن جل رہا ہے ڈاکٹر کہہ رہے ہیں کہ دعا کرو اور کچھ نہیں بتا رہےإ
ضاور کی أنکھیں بھی نم تھیں إإ
تبھی وارڈ روم کا دروازہ کھولا اور ڈاکٹر باہر أیا إ
ڈاکٹر میرے ہسبنڈ کیسا ہیں وہ ٹھیک ہے نا انہیں کچھ نہیں ہوگا ہیں نا!!-
وہ پاگلوں کی طرح ری ایکٹ کر رہی تھی عروشہا کی حالت دیکھ کر سب کی أنکھوں میں أنسوں أٸیں مایا عروشہا کے پاس گٸی
دیکھیں پشنٹ کا خون بہت بہہ گیا ہے ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں انہیں بجانے کی باقی ان کے بچنے کے چانس بہت ہی کم ہیں زندگی موت اللہ پاک کے ہاتھ میں ہیں أپ لوگ دعا کریں!!
ڈاکٹر کے الفاظ تھے کہ بم جو سب پر پڑا تھا
نہیں ارحام کو کچھ نہیں ہوگا أپ ڈاکٹر کس لیٸے ہیں ___ مریض کی جان بجانا أپ پر فرض ہے أپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں میرے ارحام کو کچھ نہیں ہوگا ورنہ میں اس پورے ھوسپیٹل کو أگ لگا کر راک کر دو گٸی سمجھی ڈاکٹر___
عروشہا نے ڈاکٹر کو گریبان سے اپنی مظبوت مٹھیوں سے جھکڑتے اس سے دیکھ کر جھنجھوڑتے دھاڑی تھی
عروشہا سمبھالوں خود کو!!
شاہدہ بیگم ارام سے عروشہا کا غصہ ٹھنڈہ کرنے لگی تھی اور اس کا ہاتھ ڈاکٹر کے گریبان سے أزاد کیا وہ فورا شاہدہ بیگم کے گلے لگ کر زاروں زار رونے لگٸی
ڈاکٹر نے اس لڑکی کو دیکھا جو شیر کی طرح اس پر ٹوٹ پڑی تھی وہ اپنا کالر ٹھیک کرنے لگا
ڈاکٹر عرو کی طرف سے میں أپ سے معافی مانگتا ہوں !_
راشد نے ڈاکٹر کی جانب ہاتھ جوڑ کر کہا___ کوٸی بات نہیں بٹ ہم اپنی پوری کوشش کریں گٸے انہیں بجانے کی!!
ڈاکٹر یہ کہتا وہاں سے چلا گیا تھا!!
امی امی أپ بتاٸیں نہ ارحام کو کچھ نہیں ہوگا نہ امی أپ ارحام سے کہے وہ مجھے سے ناراض ہیں اسلیٸے وہ مجھے چھوڑ کر جانا چاہتا ہے امی میں ان کے بغیر اب نہیں رھ سکتی امی اللہ پاک أپکی دعا سُنتے ہیں نہ تو کریں نا أپ دعا ا می ام
عروشہا شاہدہ بیگم کو جھنجھوڑتے گرب سے بولی اور اچانک بیھوش ہوگٸے تھی شایان یہ دیکھ کر حیران ہوا تھا کہ عروشہا ارحام کے لیٸے تڑپ رہی ہے وہ کسی کی بات سن نہیں رہی تھی اس سے یقین ہوگیا تھا کہ اب وہ مکمل طور پر عروشہا کو کھو بیٹھا ہے
عرو ڈاکٹر ___ عروشہا کا وجود بیھوش زمین پر دیکھ کر یارم چلا کر ڈاکٹر کو بلانے لگا تھا
نرس ڈاکٹر کے کہنے پر عروشہا کو دوسرے وارڈ روم میں رکھا تھا اور اس کا چیکپ کر رہا تھا جیکپ کرکے وہ باہر أیا
ڈپریشن کی وجہ سے بیھوش ہوگٸی ہیں ہم نے ارام کی انجیکشن لگا دی ہے تھوری دیر میں انہیں ہوش أ جاٸیں گا!!
جیسے وارڈ روم سے ڈاکٹر باہر ایا تھا سب کی سوالیہ نظروں کو دیکھ کر بولا
یہ کیا ہو گیا ہے قربان میرے دونوں بچے اندر روم میں ہیں یا اللہ پاک رحم کر ہم پر __ عمر تو میری ہے ھوسپیٹل جانے کی أخری سانسیں لینے کی اور دیکھو نہ کبھی سوچا نہیں تھا کہ اپنی زندگی میں اپنے بچوں کو اس حال میں دیکھوں گا __
حیدر سلطان قربان کو دیکھ کر غمگین لہجے میں دیکھ کر کہا
ابا جان اللہ پاک پر بھروسہ رکھیں وہ سب ٹھیک کر دیٸے گا ہمھارے بچوں کو کچھ نہیں ہوگا ___
حیدر سلطان کے کندھے پر قربان نے ہاتھ رکھ کر تسلی دی خوف تو ان سب کو تھا مگر پھر بھی سب ہی ایک دوسرے کو سہارا دۓ رہے تھے
ابا جان أپ فکر نہیں کریں ان شااللہ ہمھارے بچے ٹھیک ہو جاٸیں گٸے اللہ پاک ان کی زندگیوں میں ڈھیر ساری خوشیاں لکھ دیں ان شااللہ !!
راشد نے حیدر کو دیکھ کر نرم لہجے میں کہا!!
ہو سکے تو أپ لوگ مجھے معاف کیجٸے گا میری غلطی معافی کے لاٸق نہیں ہے لیکن پھر بھی أپ ہمیشہ بڑے دل کے مالک رہے ہیں اس ہی امید سے أپ دونوں سے معافی مانگ رہا ہوں!!
راشد ہاتھ جوڑ کر نم أنکھوں سے حیدر قربان کو دیکھ کر بولا
راشد تمھیں کب کا ہم نے معاف کردیا ہیں لیکن ایک شکوہ مجھے ہے جب تمھاری شادی سیما سے نہیں ہوٸی تھی تو تمھیں اتنا بڑا قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا مرد کے ہاتھ میں ہوتا ہے عورت کے کردار کی حفاظت کرنا سیما تم سے بے پناھ محبت کرتی تھی لیکن تم ایک مرد تھے تمھیں سوچ رکھنی چاہیے تھے جو ہو گیا وہ ماضی تھا میں نہیں چاہتا کہ ہمھارے ماضی کی وجہ سے ہمھارے بچوں کی بیچ میں نفرت پیدا ہو اسلیٸے ماضی کو ماضی میں رہنے دو اگر کبھی وقت ملے یا پھر واقعی میں تمھیں پچتاوا ہیں تو ایک بار سیما کی قبر پر جاکر اس سے معافی مانگ لینا سب سے زیادہ تم اس کے قصور وار رہے ہو __ تمھارے سب گھر والے یہاں موجود ہیں اور ہم بھی__ میں چاہتا ہوں أج سے اس ماضی کو یہی ختم کرو ورنہ أنے والی نسلوں میں بھی یہی گاٶں کی دشمنی قاٸم رہے گٸی سب دعا کرو ارحام ٹھیک ہو جاٸیں اور عروشہا بیٹی کی حالت دیکھو وہ کیسے تڑپ رہی ہیں!!!
حیدر نے ان سب کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا راشد نے اثبات میں سر ہاں میں ہلایا تھا !!
ولید بخش چوہدری انسان کہلانے کے لاٸق نہیں تھا اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی حیدر سلطان نے ان سب کو معاف کردیا تھا پھر بھی ایک اچھا الفاظ بھی حیدر کو نہیں کہا تھا وہ تو نفرت کی أگ میں غرور میں جی رہا تھا جو صرف خود سے محبت کرتا تھا !
رات کے أٹھ بج رہے تھے ڈاکٹر نے سب کو ھوسپیٹل میں رکھنے سے منع کیا تھا عروشہا ہوش میں نہیں تھی !!?
ارحام کی اپریشن ہوگٸی تھی ڈاکٹر نے چوبیٸیس گھنٹے کا کہا تھا کہ اگر وہ ہوش میں أ گیا تو اس کی جان کو کوٸی خطرہ نہیں ہوگا لیکن اگر وہ نہیں أیا تو اس کی جان کے بجنے کا چانس نہیں ہوگا !
ضاور نے حیدر قربان کو گھر بھیج دیا تھا اور شاہدہ بیگم کی بھی طبیعت خراب ہوگٸی تھی وہ بھی عروشہا کے لیٸے رو رو کر اپنا بُرا حال بنا چکی تھی یارم نے راشد کو کہا کہ وہ کیسے بھی کرکے انہیں گھر لے جاٸیں سب ہی ھوسپیٹل سے گھر چلے گٸے تھے سواۓ یارم ضاور وہی رکھے تھے باقی سب گھر چلے گٸے تھے
ارحام عروشہا کا وارڈ روم ایک دوسرے کے أمنے سامنے تھا ایک کرسی پر ضاور پریشانی میں بیٹھا تھا اور دوسری ساٸیڈ پر یارم دونوں نے ایک دوسرے سے کوٸی بات نہیں کی تھی ضاور وہاں سے اٹھ کر وارڈ روم کے دروازے کے شیشے سے اندر ارحام کو دیکھ رہا تھا سر پر پٹی باندھی ہوۓ تھیں بازٶں پر بھی اور بھی کہیں خراشیوں کے اس کے جسم پر نشان تھے إ
ضاور ارحام کو اس حال میں دیکھ کر رونے لگا تھا بنا اواز کے وہ أنسوں بہا رہا تھا اگر مرد محبت کرنے پر أۓ تو بھی کمال کی کرتا ہے اور اگر دوست کمال کی کرنے پر أۓ تو اپنی جان بھی دۓ سکتا ہےإ
ضاور ارحام ٹھیک ہوجاٸیں گا تم پریشان نہ ہوإ
یارم نے اسے کے کندھے پر پیچھے سے ہاتھ رکھ کر تسلی دی ضاور پلٹا اور ایک ہی لمحے میں یارم کا ہاتھ کندھے سے جھٹک دیا إ
تم تو چاہتے تھے نہ کہ ارحام اس حال پر پہنچھے اسلیٸے تو اس دن أفس میں بھی اس سے مارنے کی دھمکی دی تھی اور اب یہ میرے سامنے ناٹک نہیں کرو کہ تمھیں ارحام کی بہت فکر ہو رہی ہیں إإ
ضاور اس سے گھورتے حقارت لہجے میں بولاإ
ہاں میں نے کہا تھاإإ لیکن اس وقت میں غصہ میں تھا ارحام میرا بھی بچپن کا دوست ہیں اور میری بہن کا شوہر بھی تم مانو یا نہ مانو مجھے فکر ہے ارحام کی إإ
یارم نے سنجیدگی سے کہا
او اچھا تک کہا تھی بہن کی فکر جب اس سے طلاق دلوانا چاہتے تھے___ تب تمھیں یاد نہیں أیا کہ تمھاری بہن واقعی ارحام سے طلاق چاہتی بھی ہے کہ نہیں أۓ تھنک أج تمھیں بھابھی کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوگیا ہوگا کہ وہ ارحام کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں وہ ارحام سے دل و جان سے محبت کرنے لگٸی ہے کیسے وہ تڑپ رہی تھی دیکھا نہیں تم نے اور تم صاحب چلے تھے ان دونوں کو جُدا کرنے ___
ضاور تو جیسے أج بھڑکا ہوا تھا یارم پر ساری کثر أج ہی پوری کر رہا تھا اتنے دنوں سے وہ یارم کے کہے باتوں کا جواب نہیں دۓ رہا تھا شاید ارحام اور عروشہا کی حالت دیکھ کر اسکا صبر ٹوٹا تھا!!
یارم خاموش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا!!
کیا ابھی یارم تم بھابھی کو ارحام سے جُدا کرنا چاہتے ہو بہت ہوگیا یار بدلا ماضی سب کچھ چھوڑ کر ایک نٸی زندگی شروع کرتے ہیں لیکن ہاں!!!! میں اس انسان کو نہیں چھوڑوں گا جس نے ارحام کو اس حال میں پہنچایا ہے!
ضاور کا ہر ایک کہا الفاظ یارم کو سہی لگ رہا تھا اسلیٸے وہ خاموش تھا !
کس نے ارحام پر حملا کروایا ہیں ضاور!
یارم سوالیہ نظروں سے اس سے دیکھ کر بولا ضاور نے گہرا سانس لیا
ولید بخش چوہدری نے ارحام جیسے گاڑی میں بیٹھا اس کا موباٸل غلطی سے میرے پاس رھ گیا تھا میں اس سے دینے کے لیٸے گیا تو وہ وہاں سے جا چکا تھا لیکن کچھ فاصلہ ہر کھڑے أدمی نے ارحام کا نامں لیا میں پیچھے کھڑا اس کی سب باتیں سن لی تھی ولید بخش چوہدری نے ارحام کی گاڑی کے بریک فیل کرواۓ اور اتنا ہی نہیں اس کی پیٹرول کی ٹنکی کا پمپ بھی کاٹ دیا تاکہ اگر وہ بریک فیل سے بچ جاٸیں تو اس کی گاڑی بلاسٹ ہوجاۓ اور وہ وہی پر ہی مر جاٸیں __
ضاور نے ایک ہی سانس میں یارم کو ساری سچاٸی بتاٸی
تم سچ کہہ رہے ہو ___ یارم نے حیران کن اندازہ میں کہا
ہاں اگر یقین نہیں أتا تو کل تمھیں میں اس أدمی تک لیں جاٶں گا جس نے یہ سارا کارنامہ ولید بخش چوہدری کے کہنے پر انجام دیا ہے
ٹھیک ہے اگر تم سہی کہہ رہے ہو تو اس بار دادا جان کو سزا میں خود دلواٶں گا __!
یارم نے مظبوت لہجے میں کہا!
ارحام ارحام کیسا ہے اس سے ہوش أگیا !_
وہ دونوں باتوں میں لگے ہوۓ تھے کہ عروشہا بھاگ کر ارحام کے وارڈ روم کے شیشے سے اندر جھاگ کر بولی
عرو تمھاری پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جاکر ارام کرو ہم یہاں ارحام کے پاس کھڑے ہیں!!
یارم نے عروشہا کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے سمجھانا چاہا__
نہیں لالا أپ مجھے بتاٸیں ڈاکٹر نے کیا کہا ہیں اور میں ٹھیک ہوں أپ میری فکر نہ کریں!
عروشہا نم أنکھوں سے یارم کا ہاتھ پکڑ کر پوچھنے لگٸی یارم نے ضاور کو دیکھا
بھابھی ڈاکٹر نےکہا ہیں کہ چوبیٸیس گھنٹوں میں اگر ارحام ہوش میں ایا تو وہ خطرے سے باہر ہوگا اور
ضاور کی زبان گواہی نہیں دۓ رہی تھیں کہ وہ ارحام کی موت کے الفاظ ادا کر سکے
اور عروشہا نے یارم کو تجسس سے دیکھ پوچھا
اس کی جان جا سکتی ہیں اگر وہ ہوش میں نہیں أیا تو لیکن عرو اللہ پاک سے کبھی نہ امید انسان کو نہیں ہونا چاہیے دیکھنا ہم سب اس کے لیٸے دعا کر رہے ہیں وہ بہت جلد ٹھیک ہو جاٸیں گا
یارم نے عروشہا کو دیکھ سمجانے لگا __
جی لالا مجھے پورا یقین ہیں اللہ پاک پر وقت کیا ہوا ہے_!
عروشہا نے انکھوں سے أنسوں صاف کرتے ڈوپٹہ سر پر اوڑھتے یارم سے پوچھا_
رات کے تین بج رہے ہیں___ یارم نے اس سے دیکھ کہا
میں تہجد نماز پڑھ کر أتی ہوں اللہ پاک کبھی نماز تہجُد کی دعا رد نہیں کرتا
عروشہا یہ کہہ کر ھوسپیٹل کے واشروم میں گٸی ضاور سے کہہ کر یارم عروشہا کے پیچھے گیا کہ کہیں اس سے کچھ ہو نا جاۓ
کچھ دیر کے بعد وہ وضو کر کے واشروم سے باہر أٸی یارم نے نرس سے چاے نماز مانگی تھی اور اس نے فورا دی عروشہا نے یارم سے چاے نماز لیکر ھوسپیٹل کے ایک خالی کمرے میں گٸی اور چاے نماز زمین پر احترام سے بھیچاٸی ڈوپٹے کو سہی سے اوڑھ کر چاے نماز پر کھڑی ہوکر نماز تہجُد کی نیت کرنے لگٸی
ادھے گھنٹے میں وہ نماز پر چکی تھی اس نے دعا کے لیٸے ہاتھ اٹھاۓ
یا اللہ پاک تو ہر چیز پر قادر ہے تو اپنے بندوں سے ستر ماٶں سے زیادہ محبت کرتا ہے __ میرے مالک میں بہت گناھگار ہوں میں معافی کے قابل نہیں ہوں __ میرے گناہوں سے زیادہ تیری رحمت بڑی ہیں
میرے نصیب میں ارحام کو میرے مالک تو نے لکھا ہے مجھے نہیں پتا میں اس سے محبت کرتی ہوں کہ نہیں لیکن وہ شخص میری عادت بن گیا ہے
حویلی والوں کی باتیں سُن کر میں نے ہمیشہ اس سے غلط سمجھا مگر وہ تو کہیں بھی غلط نہیں تھا میری زندگی میں بچپن سے اسلیٸے دکھ لکھے تاکہ میں أپ کے قریب أٶ لیکن میں دنیا کے غفلت میں اندھی ہو گٸی تھی پانچ وقت نماز فرض ہونے کے باوجود بھی ایک وقت کی بھی میں نہیں پڑھتی تھی یااللہ پاک میرے شوہر کو لمبی زندگی عطا کر میری عمر بھی اس سے لگ جاٸیں میرے مالک میرے شوہر کو نٸی زندگی دیں ان شااللہ میں اب سے پانچ وقت کی نماز ادا کروں گٸی بس میرے مولا میرے شوہر کو مجھ سے جدا نہیں کرنا میں مر جاٶں گٸی اس کے بغیر
وہ چہرے کو دونوں ہاتھوں میں چھپاۓ رب سے سسکیاں لیتی فریاد کر رہی تھی یارم پیچھے کھڑا بغور اپنی بہن کو دیکھ رہا تھا پہلے وہ اس شخص سے کتنی نفرت کرتی تھی اور اج اس کے لیٸے گڑگھڑا کر رب سے اس کی زندگی کی بھیک مانگ رہی تھی
یارم کو احساس ہوا کہ وہ کتنی بڑی غلطی کرنے جا رہا تھا اسے طلاق دلوا کر کیا پتا کل کو وہ عروشہا یارم کو معاف نہ کر پاتی
اللہ پاک ہر قدم پر ہم انسانوں کو دکھ دے کر اپنے قریب کرنا چاہتا ہوتا ہے اور ہم پھر بھی یہ نہیں سمجھتے اور دنیا کی غفلت میں جیتے رہے ہیں
جب پوری دنیا أپ کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں نا وہ پھر بھی ہم انسانوں کا ساتھ دیتا ہیں
عروشہا چاے نماز پر سر رکھ کر کتنی ہی دیر تک وہ ارحام کی زندگی کی دعا مانگتی رہی تھی کب اس سے چاے نماز پر نیند أٸی اس سے خبر ہی نہیں ہوٸی یارم عروشہا کو وہی سوتا دیکھ کر دو منٹ کے لیٸے ضاور کے پاس گیا
کیا ہوا تم اتنے اداس کیوں ہو!!
ضاور نے یارم کا مرجھایا چہرہ دیکھ کر کہا!!
تم سہی کہہ رہے تھے ضاور شکر ہیں اللہ پاک کا کہ میری أنکھیں وقت پر کھول دی ورنہ غصہ میں ناجانے میں اپنی عرو کی زندگی برباد کرنے چلا تھا
وہ چاے نماز پر روتی ہچکیاں لیکر ارحام کی زندگی کی دعا مانگ رہی ہے وہ اس سے محبت کرنے لگی ہیں اور میں اس سے اس کی محبت چین نے چلا تھا___
یارم کرسی پر بیٹھا تھا اور سر نیچھے جھکاۓ غمگین لہجے میں کہہ رہا تھا!!!!
چلو شکر ہے تمھیں عقل تو أگٸی اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جاتی لیکن ایک بات کہوں تم چاہیے جی جان لگا دیتے پھر بھی ارحام بھابھی کو طلاق کبھی نہیں دیتا
وہ اس کے ساتھ بیٹھتے اپناٸیت لہجے میں کہا تھا یارم سر اٹھا کر ضاور کو دیکھ کر دھیمی سی مسکان اس کے چہرہ پر أٸی تھیں اور ضاور نے بھی اس کے کندھے پر اپنا ہاتھ رکھا تھا