ہجرے عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 26

صبح سویر سب گھر والے ھوسپیٹل أ گٸے تھے عروشہا مسلسل دُرود پاک کا ورد کرتے دعا کر رہی تھی ڈاکٹر ارحام کا چیکپ کر رہا تھا سب باہر پریشانی کے مارے کھڑے تھے کہ ڈاکٹر روم سے باہر أیا
ڈاکٹر میرے بیٹے کی اب طبیعت کیسی ہیں
قربان نے فکرمندی سے ڈاکٹر کو دیکھ تبیہ نظروں سے پوچھا سب کی نظر ڈاکٹر پر ٹکی ہوٸیں تھیں سب کا سانس حلق میں اٹکا ہوا تھا
جی مجھے سمجھ نہیں أ رہا کہ میں بات کا أغاز کہاں سے کروں میں اپنی پوری زندگی میں پہلا ایسا کیس دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔ اللہ پاک نے معجزہ کیا ہے — کہ ایسے پشنٹ کو ہوش أیا ہیں جس کے بجنے کے چانس بہت کم تھے — اللہ پاک کا شکر ادا کریں أپ کا پشنٹ اب خطرے سے بلکل باہر ہے— انہیں ہوش أ گیا ہیں کچھ فاملیٹیز پوری کرنے کے بعد أپ انہیں گھر لیں جا سکتے ہیں !!! ہاں ان کا خاص خیال رکھیے گا —-سر میں گہری چوٹ لگنے کی وجہ سے ان کے دماغ کا اپریشن کیا ہے—- ایسی کوٸی پریشانی والی بات ان کے سامنے نہ کریں گا ورنہ ہو سکتا ہے—- کہ ان کی طبیعت بگڑ سکھتی ہیں !! اور أپ لوگ اپنے پشنٹ سے مل سکتے ہیں —
أپ کا بہت بہت شکریہ ڈاکٹر —
ضاور خوشی سے ڈاکٹر کے گلے لگتے کہا اس کی اتنی جلد بازی اور خوشی دیکھ کر سب مسکرانے لگٸے تھے— سب ہی روم میں ارحام کے پاس گٸے لیکن عروشہا شکرانے کی نفل ادا کرنے گٸی أخر رب نے اس کی دعا قبول کر ہی لی تھی —
ارحام بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا وہاں سب موجود تھے مگر ولید بخش چوہدری نہیں تھا اس سے لگ رہا تھا کہ وہ مر گیا ہوگا—کچھ ہی دیر میں اس کے مرنے کی خوشخبری سُننے کو ملے گٸی وہ یہ سوچ کر خوش ہو رہا تھا–
ارحام نے سب کو دیکھا پوری روم کا جاٸزہ لیا اس کی أنکھیں جس کو تلاش کر رہی تھیں وہ وہاں پر نہیں تھی عروشہا کو روم میں نہ دیکھ کر ارحام کو غصہ أیا — اور سختی سے چبڑے بھیچے تھے — باہر سے زخموں کی وجہ سے اس کو درد ہو رہا تھا اور اب عروشہا کو وہاں اپنے پاس کھڑا نہ دیکھ کر اس کے دل میں درد اٹھا تھا جس سے وہ خود بے خبر تھا اخر کیوں اس کے نہ ہونے سے اسے تکلیف ہورہی تھی ارحام خود اپنے جزبات سمجھ نہیں پا رہا تھا–
جب سب نے باری باری اس کا حال پوچھا سب کو اس نے بے دلی سے جواب دیا حیدر نے ارحام کو اشارہ کیا کہ وہ چوہدریوں سے کوٸی بتمیزی نہیں کرۓ سو وہ خاموش تھا اوپر سے اس کی طبیعت اتنی ٹھیک نہیں تھی کہ وہ کسی سے بحث کر سکتا–
عروشہا روم میں داخل ہوٸی تھی سب نے اس کی طرف دیکھا تھا جس کو دیکھ کر سب کو اندازہ ہوگیا کہ وہ ابھی شکرانے کی نماز پڑھ کر أٸی ہے اس کا ڈوپٹہ نماز پڑھنے کے سلیکے سے اوڑھا ہوا تھا–
جس کا وہ بے صبری سے انتظار کر رہا تھا وہ أگٸی تھی تو اس کو نظر بھر کر دیکھ نہیں رہا تھا بے رُخی سے نظریں دوسری طرف کر لی ارحام نے
ارحام کو احساس ہوگیا ہے کہ عروشہا اس سے دیکھ رہی ہے مگر وہ پتھر بنا رہا اس سےدیکھ نہیں رہا تھا جب ضاور نے ارحام کے کان پر جھک دھیمی سی سرگوشی کی تھی
ترسی نگاہوں کو پانی ملا تیرے أنے سے🍁🍁
تیرے أنے سے میری روح مہکی🥰
ایک نظر اٹھاکر دیکھ میرے محبوب مجھے❣️
ورنہ یوں تیری بے رُخی میری جان لے لیگی 🍂
جیسے ہی ارحام نے ضاور کو کھاجانے والی نظروں سے گھورا اس کی نظر خود بہ خود عروشہا پر گٸی کیونکہ وہ ضاور کے پیچھے کھڑی تھی اور ضاور نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا تاکہ وہ عروشہا کو دیکھے —
ارحام کو اپنی سانسیں بند ہوتی محسوس ہوٸی تھی ڈوپٹہ نماز پڑھنے کے سلیکے سے اوڑھا ہوا تھا اس کی انکھیں شدید رونے سے سُجی ہوٸی تھیں ابھی بھی اس کی أنکھوں میں نمی تھیں
عروشہا اس طرح ڈوپٹہ اوڑھنے سے اس کے حُسن میں چاند چار لگ گیا تھا وہ سب کچھ یہاں تک کہ اپنا درد بھی اس سے دیکھ کر بھول گیا تھا عروشہا نے سر اٹھا کر ارحام کو دیکھا وہ اس کے دیکھتے ہی فوراً اپنی نظریں پھیر گیا
ضاور نے ڈسچارج پیپر بنواۓ تھے حویلی والے سب اپنے گھر چلے گٸے تھے حیدر قربان دونوں ایک گاڑی میں چلے گٸے تھے دوسری گاڑی ارحام ضاور ملی عروشہا اس میں جانے والے تھے
أہہہہہہہہ __ ارحام دھیرے سے بیڈ سے اٹھ رہا تھا جب اس کے بازٶں میں درد ہوتا محسوس ہوا منہ سے سخت چیخ نکلی
ارحام أرام سے __ عروشہا فکرمندی سے اگٸے کھڑی ہوتی بولی
ہاتھ دیں مجھے __ عروشہا نے اپنا نازک سا ہاتھ ارحام کے اگٸے کیا مگر ارحام اس کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا
ملی ضاور —
عروشہا ارحام روم میں اکیلے تھے وہ باری باری ارحام سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ارحام اس کی جانب دیکھنا بھی گوارہ نہیں کر رہا تھا— اور وارڈ روم کے باہر ملی ضاور کھڑے تھے ان کو اونچی أواز میں ارحام نے پکارا تھا— وہ فوراً روم میں داخل ہوۓ تھے ملی ایک ساٸیڈ سے ارحام کو سہارا دیا اور دوسری ساٸیڈ سے ملی عروشہا کی أنکھیں نم ہوٸی وہ کیوں ایسا رویہ رکھ رہا تھا —-اس کے ساتھ یہ بات عروشہا کو سمجھ نہیں أ رہی تھی —-اور اس کی بے رُخی ضاور نے دیکھی تھی لیکن وہ کچھ نہیں کہنا چاہتا تھا ابھی کے لیٸے کیونکہ ارحام کی کنڈیشن کی وجہ سے وہ خاموش ہوگیا
گاڑی پر پہنچ کر ضاور نے ارحام کے لیٸے پیچھے والی سیٹ کا دروازہ کھولا
ضاور فرنٹ سیٹ پر بیٹھاٶں مجھے
ارحام نے ضاور کو دیکھ کہا
ارحام تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہیں اگٸے بیٹھنے سے تمھاری طبیعت خراب ہو سکتی ہے
میں نے کہا کہ مجھے أگٸے بیٹھاٶں
ارحام سرد لہجے میں کہتا ضاور کو گھورنے لگا تو ضاور خاموشی سے اس کے لیٸے اگے والا دروازہ کھولا وہ اس پر بیٹھ کر ونڈو سے باہر دیکھنے لگا
اس کا تلخ لہجہ ضاور کے لیٸے نہیں بلکہ عروشہا کے لیٸے تھا جو اس سے ہی دیکھ رہی تھیں ضاور ڈراٸیونگ سیٹ سمبھالی پیچھے عروشہا ملی بیٹھی تھیں
سلطان مینشن کے باہر گاڑی رکی ملی ضاور دونوں نے ارحام کو سہارا دۓ کر اندر لے گٸے عروشہا بھی ان کے پیچھے پیچھے گھر کے اندر چلی گٸی
ان دونوں نے ارحام کو اس کے کمرے میں بیڈ پر أرام سے لیٹایا
ارحام تم کوٸی بھی ٹینشن نہ لوں میں اور ملی وقار نے جہاں لڑکیوں کو رکھا ہے ہم ان کا پتا جلد ہی لگا لیں گٸے تم بس أرام کرو جب تک ٹھیک نہیں ہوجاتے
ضاور اس کی جانب بیڈ کی طرف تھوڑا جھک کر کہا تاکہ عروشہا پیچھے سے اتی یہ نہ سن پاۓ —
ضاور مجھے افسد کا انکاٶٹر چاہیے أج ابھی اسی وقت–
ارحام نے ضاور کو حکم دیا وہ سر ہاں میں ہلاتا وہاں سے چلا گیا ملی بھی اس کے پیچھے کمرے سے نکل گٸی–
ارحام کے سر میں درد ہو رہا تھا اور نیند بھی أ رہی تھیں شاید میڈیسن کا عصر تھا وہ لیٹ گیا جب عروشہا کمرے میں داخل ہوٸی تھی وہ أنکھیں موندہ ہوا تھا —
وہ الماڑی کی جانب گٸی سادھ سا سوٹ لیکر واشروم میں گس گٸی وہ بہت تھکا ہوا خود کو محسوس کر رہی تھی اس لیٸے خود کو پر سکون کرنے کے لیٸے ٹھنڈے پانی کا شاور لیکر خود کو فریش کرنا چاہتی تھی–
جی أپ لوگوں کو کس سے کام ہیں–
گاٶں کے کچھ لوگ حویلی کے اندر أٸیں مایا انہیں دیکھ کر ان کے پاس أگٸی تھی ایک بزرگ تھا اور چھ سال کا چھوٹا سا بچہ تھا ان کے کپڑوں سے اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ وہ بہت غریب ہیں
بی بی جی ہم سردار سے ملنے أٸیں ہیں أپ انہیں اطلاح دیں کہ ہم أٸیں ہیں
بزرگ نے مایا کو دیکھتے دھیمے لہجے میں کہا وہ سر اثبات میں ہلا کر ولید بخش چوہدری کو ان کا دیا گیا پیغام دینے چلی گٸی تھی کچھ دیر کے بعد ولید بخش چوہدری مونچھوں کو مغرور اندازہ میں گول کرتا سیڑھیوں سے نیچھے اتر رہا تھا کندھے کے ایک ساٸیڈ پر رومال رکھا ہوا تھا أنکھوں میں مغروریت صاف جلک رہی تھیں–
ہاں تو کیا فیصلہ کیا
ولید بخش چوہدری نے سخت لہجے میں گرجدار انداز میں بزرگ کو دیکھ کہا
سردار جی أپ جو بھی کہے گٸے ہم کرنے کو تیار ہیں لیکن أپ کو خُدا کا واسطہ ہے ہم سے ہمھاری زمین نہ چھینیے ہمھارے جینے کا أخری سہارا وہ زمین ہے جس کے ظریے ہمھارا گزر سفر چلتا ہے میں أپ کے اگٸے ہاتھ جوڑتا ہوں
بزرگ ولید بخش چوہدری کے اگٸے ہاتھ جوڑ کر روتے گڑگھڑانے لگا اور مسلسل منتیں کرنے لگا
دیکھو تمھاری اتنی زمین نہیں ہیں جتنے میں تمھیں اس زمین کے بدلے میں پیسے دیں رہا ہوں مجھے وہ زمین چاہیے فیکٹری بنانے کے لیٸے تم پیار سے سمجھ جاتے ہو تو ٹھیک ورنہ تم جانتے ہو
ولید بخش چوہدری روعب سے دھمکانے لگا
سردار وہ زمین ہمھارے بڑوں کے خون پسینے کی کماٸی ہے اس سے ایسے کیسے مٹی میں ملتا دیکھ سکتے ہیں ہم أپ ہم پر رحم کریں سردار
وہ بزرگ اب ولید بخش چوہدری کے پیر پکڑ لیے اور رونے لگا مگر ولید بخش چوہدری نے اس کی ایک نہ سُنی اور حقارت سے لات مار کے بزرگ کو اپنے پیروں سے دور پھینک دیا جیسے اس نے کسی انسان کو نہیں بلکہ
چیٹی کو پیروں سے بُری طرح مسل کر پھینک دیا ہو وہ بیچارا بزرگ منہ کے بل زمین پر گرا شور کی أواز پر مایا شاہدہ بیگم زیبی ممتاز بیگم کچن سے باہر أٸی سجاد راشد بھی صحن میں أگٸے کمروں سے نکل کر
مایا کی أنکھیں پھٹی رھ گٸی یہ سب دیکھ کر باقیوں کو کوٸی جھٹکا نہیں لگا تھا کیونکہ وہ اب اس ظلم ستم دیکھنے کے عادی ہوگٸے تھے شایان کسی دوست کے گھر گیا تھا اور یارم أفس
وہ دونوں ہمیشہ ولید بخش چوہدری کی نا انصافی پر بھولتے تھے مگر وہ انہیں ہر بار چپ کرا دیتا تھا
اب تو تمھیں زمین کے پیسے بھی نہیں ملے گٸے دفع ہو جاٶ تم جیسوں کو پیار سے سمجھانے کا کوٸی فاٸدہ نہیں ہوتا اور منہ اٹھاکر چلے أتے ہو
حقارت سے وہ بزرگ کو دیکھ کر گرجدار أواز میں دھاڑا تھا
وہ چھ سال کا بچہ اپنے بوڑے دادا کو اس طرح زمین پر دیکھ کر نفرت سے ولید بخش کو دیکھا اور اپنے دادا کو زمین سے اٹھایا
اللہ کریں سردار أپ مرجاٸیں اور أپ کی میت پر گاٶں والے تو کیا أپ کے یہ گھر والے بھی نہ روٸیں جس طرح أپ نے میرے دا جی کو زمین پر گرایا ہیں أپ بھی منہ کے بل زمین پر گرے گٸے میں بد دعا دیتا ہوں أپ کو غریبوں کے حق کھانے والے کو جینے کا کوٸی حق نہیں ہے
چھ سال کا لڑکا قہر بھری نظروں سے ولید بخش چوہدری کو دیکھ دھاڑا تھا اس کی باتیں سن کر ولید بخش چوہدری أگ بگولا ہوگیا تھا سب گھر والے اس چھ سال کے لڑکے کو حیریت سے اور بھادری کی نظروں سے دیکھ رہے تھے— وہ چھوٹا بچہ نا انصافی کے أگٸے أواز اٹھا رہا تھا اس کی ہمت پر تو داد دینے چاہیے یہ مایا نے دل میں اسے دیکھ سوچا تھا جس کی أنکھوں میں موت کا خوف کہیں بھی نہیں تھا
ا بے رک میں تمھیں بتاتا ہوں موت کے بارے میں
ولید بخش چوہدری اس بچہ کا گلا دبا کر اوپر کھینچ کر زور سے اس کی گردن دبوچنے لگا چھ سال کا بچہ تڑپ رہا تھا اس کی سانسیں دھیمی ہو رہی تھیں
س سردار معاف کر دیں بچہ ہے اسے کچھ پتا ہی نہیں کہ کیا بول گیا ہے معاف کر دیں سردار میرے پوتے کو چھوڑ دیں چاہیے اس کی جگہ پر میری جان لیں لے پر میرے پوتے کی جان بخش دیں
بزرگ رو کر ولید بخش سے فریاد کر رہا تھا
ابا جان چھوڑیں چھوٹا بچہ ہیں
راشد سجاد بھاگ کر ولید بخش کو اس بچے کو چھوڑایا وہ دونوں کیسے بھی تھے لیکن کبھی کبھی ان کا ضمیر انہیں غلط ہوتا دیکھنے سے روک دیتا تھا وہ بچہ زمین پر گرا تھا اور گہری سانسیں لینے لگا بزرگ نے اس سے کندھے سے تھام کر فورا وہاں سے نکل گیا
تم دونوں نے مجھے روکا کیوں ابھی بتاتا نہ اس بچے کو کہ میرے سامنے زبان چلانے کا کیا انجام ہوتا ہے اس سے تو میں چھوڑوں گا نہیں
ولید بخش چوہدری راشد سجاد کو دیکھ کر دھاڑا تھا وہ اس بچے کو مارنے کا پورا اراد کرلیا غصہ سے بھرا لال چہرہ لیکر وہ سیڑھیوں کو عبور کرنے لگا
مایا تو شاکت اس طرح تھی جیسے وہ سانس لینا بھول گٸی ہو اتنے چھوٹے بچے کو اتنی بے دردی سے گلا دبا کر مار رہا تھا ولید بخش چوہدری کیسا گھٹیا انسان ہے
جب اچانک ولید بخش چوہدری کا سیڑھیوں سے پاٶں سلپ ہوا اور وہ گڑکتا اوپر کی سیڑھیوں سے نیچھے گرا سب شاکت تھے لیکن کسی کے گرنے کی أواز پر سیڑھیوں کی جانب دیکھا جہاں سیڑھیوں کے نیچھے ولید بخش چوہدری گرا پڑا تھا اس کے ماتھے سے خون کترا کترا بہہ رہا تھا منہ سے بھی خون بہہ رہا تھا اس کی أنکھیں یکدم بند ہوٸی
ابا جان __ راشد سجاد بھاگ کر اسے کے پاس گٸے خواتین بھی جلد ہی اس سے شہر ھوسپیٹل لے گٸے مایا نے یارم کو سب بتایا وہ بھی ھوسپیٹل کی طرف روانہ ہوا تھا شایان کال ریسیو نہیں کر رہا تھا
کچھ دیر سفر کرنے کے بعد ان کی گاڑی ھوسپیٹل رکی سب اندر کی جانب بھاگے ڈاکٹر نے ولید بخش چوہدری کو خون میں لت پت دیکھا اس کی نبس چیک کی
کیا ہوا ڈاکٹر جلدی کریں ابا جان کا خون بہت بہہ گیا ہیں
راشد نے ڈاکٹر کو وہی پر ولید بخش چوہدری کی نبس چیک کرتے گھبرا کر کہا
ہی از نُو مور —-اگر أپ دس منٹ پہلے أتے تو ان کی جان بج سکتی تھی لیکن اب کوٸی فاٸد نہیں
ڈاکٹر نے راشد کو دیکھ سنجیدگی سے کہا سب ہی چونکیں تھے کچھ وقت پہلے اس چھوٹے بچے کی بد دعا قبول ہوگٸی تھی راشد سجاد کی أنکھیں باپ کی جداٸی سے نم ہوٸی تھیں
ولید بخش چوہدری کی موت کی خبر پورے گاٶں میں پھیل گٸی تھی لوگ تو سک کا سانس لے رہے تھے کہ اب وہ اس کے ظلم ستم سے أزاد ہوگٸے ہیں
مظلوموں پر اتنا ظلم نہیں کرنا چاہیے کہ جب وہ انسان دنیا چھوڑ جاۓ تو کسی کو اسکا دکھ نہ ہو اور ولید بخش چوہدری بھی ایک جلاد تھا غریبوں کے لیٸے
راشد سجاد کے علاوہ کسی کی أنکھیں ولید بخش چوہدری کے جانے سے نم نہیں ہوٸیں تھیں __
ہاں البتہ یہ بات الگ تھی کہ جب حیدر سلطان کو ولید بخش چوہدری کی موت کی خبر ملی تھی تو وہ غمزدہ ہوا تھا
ولید بخش چودری کو دنیا چھوڑ جانے کو ایک ماہ گزر چکا تھا راشد نے حیدر سلطان سے سیما کی قبر کا پوچھا تھا کہ وہ کہاں ہے وہ وہاں گیا تھا اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگنے سجاد بھی پہلے سے بہت بدل گیا تھا اس نے بھی کہیں بڑے گناھ کیے تھے لیکن اس کو پچتاوا تھا
راشد ڈپریشن کا مریض ہوگیا ایک ہفتہ پہلے اس سے ہارٹ ٹیک ہوگیا تھا اور وہ بھی اچانک دنیا چھوڑ گیا تھا راشد کے جانے کے بعد سب کو گہرا صدمہ لگا تھا شاہدہ بیگم کمرے سے نکلتی نہیں تھی
ضاور نے ارحام کے کہنے پر افسد کا بھی انکاٶٹر کر دیا تھا
ارحام کی طبیعت پہلے سے بہتر ہوگٸی تھی
مایا مجھے تمھیں کچھ بتانا ہیں
مایا بیڈ شیٹ ٹھیک کر رہی تھی یارم واشروم سے نکل کر ٹوٸلیہ سے بال رگڑتے ٹوٸلیہ کو صوفے پر پھینک مایا کے روبرو کھڑا ہوا
مایا نے یارم کو سوالیہ نظروں سے دیکھا اور سر اثبات میں ہلایا یارم نے مایا کو پتا دیا تھا کہ ارحام کے بارے میں کہ وہ اس کے باپ کے أفس اور نیوں پروجیکٹ میں ففٹی پرسٹینج کا مالک ہے مایا کو اس بات سے کوٸی عتراض نہیں ہوا تھا
تم جانتی ہو کہ أفس میں کام کا بنڈل بھڑ گیا ہے جس کی وجہ سے مجھے روز گاٶں سے شہر جانے میں بہت مشکل ہوتی ہے اور شام کو واپس أنے پر أفس کا کام ادھورا رھ جاتا ہے میں نے ڈساٸیڈ کیا ہے کہ ہم اسلام أباد شفٹ ہوجاٸیں تاکہ مجھے أنے جانے میں کوٸی مسٸلہ پیش نہ أٸے
بابا کے جانے کے بعد میں امی کو یہاں سے دور لے جانا چاہتا ہوں تاکہ وہ بھی اس غم و تکلیف سے نکل سکے اور یہ سب تب ہوگا جب ہم یہاں سے جاٸیں گٸے کیا تم میرا ساتھ دوگٸی تمھارے ساتھ کے بغیر میں کچھ نہیں کر سکتا
مایا کا ہاتھ یارم نے تھام أنکھوں میں امید لیے اس سے کہا
یارم زندگی کے ہر موڑ پر میں أپ کے ساتھ ہمیشہ کھڑی رہوں گٸی چاہیے اچھا وقت ہو یا بُرا ہر قدم پر__ اگر أپ چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے جب کہو گٸے میں پیکنگ کر لوں گٸی لیکن أنٹی سے أپ نے اس بارے میں بات کی ہے
وہ اس کی أنکھوں میں دیکھ اطمنان سے بولی
ہاں میں نےامی سے بات کی تھی امی نے کہا جیسا تمھیں ٹھیک لگے تم أج پیکنگ کرو میں نے وہاں نیوں گھر بھی لے لیا ہے ویسے بھی اب اس گاٶں میں دل نہیں لگتا عرو سے بھی بات کر لیں وہ بھی کہہ رہی ہیں کہ امی کو حویلی سے دور لیں جانا چاہیے تاکہ وہ ڈپریشن سے دور رہے
یارم نے مایا کو دیکھ سنجیدگی سے کہا
ٹھیک ہے میں ابھی سے پیکنگ کرنی شروع کر دیتی ہو تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو _
مایا اتنا کہتی الماڑی سے سوٹگیسٹ نکالنے لگی اور پیکنگ کرنے لگٸی تھی__
عروشہا کو نیند میں گردن پر کسی کی گرم سانسیں محسوس ہوٸی تھی أنکھوں کو مسلتے دھیرے سے أنکھیں کھولی خود کو ارحام کے اتنے قریب دیکھ کر اس کی جان لبوں پر أٸی
ارحام کا ایک ہاتھ اس کی کمر پر تھا وہ اس کے چوڑے دار سینے سے لگٸی ہوٸی تھی
میں یہاں کیسے أٸی میں تو صوفے پر سو رہی تھی-
ارحام کو دیکھ کر خود سے ہمکلامی ہوٸی تھی اور سوچا __ عروشہا ارحام کے چہرہ کا طواف کر رہی تھیں جو نیند میں معصوم بچہ لگ رہا تھا اس کی ہلکی داڑھی سفید رنگت سگریٹ پہنے کے باوجود بھی اس کے لبوں کا رنگ گلابی تھا وہ أج اتنے قریب سے اسے کے چہرہ کا ہنوز دیکھ رہی تھیں ایک منٹ دو منٹ کتنا وقت گزر گیا تھا وہ اس سے دیکھنے میں مشغول رہی تھی
صبح کی أذان کی أواز اس کے کان کی پسٹ سے ٹکراٸی تو وہ ارحام کو دیکھنے سے باز أٸی عروشہا خود کو ارحام کی گرفت سے نکلنے کے لیٸے اپنی کمر سے اسکا ہاتھ نکلنا چاہا اس کی کوشش بیکار تھی ارحام نے نیند میں کروٹ لی تھی کہ عروشہا کی کمر پر گرفت سخت کرکے اس سے اپنے اوپر گرا گیا
وہ حیریت سے ارحام کو دیکھنے لگی کہ یہ تو نیند میں تھا کیا وہ جھاگ رہا ہے مطلب جان بوجھ کر مجھے دور نہیں ہونے دۓ رہا
عروشہا ہنوز اسے گھورتے سوچا
وہ پھر سے اپنی کمر پر ارحام کا ہاتھ ہٹانا چاہا لیکن اس کی گرفت اور مظبوت ہوگٸی
أپ جھاگ رہے ہیں __ عروشہا نے ارحام کی بند ہوتی أنکھوں کو دیکھ کر پوچھا
نہیں سو رہا ہوں __ ارحام نے دوبدو اس طرح جواب دیا اور أنکھیں یکدم کھول کر عروشہا کا منہ حیریت سے کھولا رھ گیا
عروشہا اس کے سینے پر ہاتھ رکھتے اسے پیچھے دھکیلا مگر ارحام نے اور زیادہ اس کی کمر پر گرفت مظبوت کی عروشہا تھکے ہار کر ارحام کو گھوروں سے نوازہ
أپ یہ کیا کر رہے ہیں __ وہ ہنوز اسے دیکھنے لگٸی
أہہہہہہہہ ارحام نے عروشہا کو مزید اپنے سینے سے لگایا کہ اس کے بازٶں میں درد ہوا
اچانک ہی عروشہا کی کمر پر گرفت درد سے ڈھیلی کر دی وہ جھٹکے سے اس سے دور ہوٸی اور بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوگٸی تھی
جب أپ کو پتا ہے کہ أپ کے بازٶں کا گاٶ اپنی تک بھرا نہیں ہیں تو أپ کو ایسی حرکتیں کرنے سے باز أنا چاہیے _
عروشہا کبٹ سے کریم نکال کر اسےکے بازٶں پر لگاتی خفگی سے بولی
ارحام نے اس کی بات کا کوٸی جواب نہیں دیا تھا عروشہا کے نازک ہاتھوں کا لمس زخم پر محسوس کرتے اس سے ایسا لگا جیسے جلتی أگ پر کسی نے ٹھنڈہ پانی ڈالا ہوں کریم لگا کر گھڑی میں وقت دیکھا اسے نماز کے لیٸے دیر ہو رہی تھی وہ واشروم میں وضو کرنے گٸی ارحام بیڈ گراٶڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا تھا
پانچ منٹ میں وہ وضو کرکے واشروم سے باہر أٸی تھی دوپٹے کو سلیکے سے سر پر اوڑھا الماڑی سے چاے نماز اٹھا کر احترام سے فرش پر بھیچاٸی تھی اور کھڑی ہوکر نماز کی نیت کی ارحام اس سے نماز پڑھتا دیکھ رہا تھا
نماز پڑھنے کے بعد اس نے دعا مانگی ابھی وہ چاے نماز پر بیٹھی ہی تھی کہ ارحام نے اسے دیکھ استفسار کیا
رب سے شکوہ کر رہی ہو کہ میں ایکسینڈنٹ سے بچ کیوں گیا __
اس کے کہنے کا انداز سنجیدہ تھا لیکن الفاظ زہریلے جو عروشہا کو اندر سے زخمی کر گٸے تھے اس کے لیٸے وہ کتنا تڑپی تھی وہ سب جانتا تھا— پھر بھی وہ یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اس کے لیٸے مرنے کی دعا کر رہی ہے— اس کی زندگی کے لیٸے وہ أدھی رات کو تہجُد میں رب سے گڑگھڑا کر اس کی زندگی کی دعا مانگ رہی تھی کیا وہ اس کی سانسیں چینے کی دعا بھلا کیسے کر سکتی تھی عروشہا نے چونک کر پتھر دل انسان کو دیکھ جو اس کا شوہر تھا
شکوہ وہ لوگ کرتے ہیں جو رب کی رحمت سے نہ امید ہو اور میں کبھی اپنے رب کی رحمت سے نہ امید نہیں ہوتی
وہ اس کی أنکھوں میں جھانکتی سرد لہجے میں بولی وہ کیسے اپنی أنکھوں میں أۓ أنسوٶں کو روک رہی تھی یہ تو صرف وہی جانتی تھی
مطلب دوبارہ میرے مرنے کی دعا مانگوں گٸی
وہ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تھا وہ دلچسپی سے اسے سوال کر رہا تھا وہ عروشہا کی رنگت پھینکی پڑتی دیکھ چکا تھا۔۔۔
اگر أپ کو مارنا ہوا— تو اور بھی کہیں طریقے ہے لیکن میں مرنے کی دعا تو کسی دشمن کے لیٸے بھی نہیں کرتی—پھر بھی أپ تو میرے زبردستی کے شوہر ہیں– بھلا أپ کے لیٸے مرنے کی دعا کیسے کر سکتی ہوں–
وہ سپاٹ لہجے میں بولی
او ریٸلی تو زرا بتاٸیں مس عروشہا ارحام سلطان کہ اور کون کون سے طریقے ہیں أپ کے پاس شوہر کو مارنے کے
وہ اس سے مسلسل تپا رہا تھا مگر عروشہا بھی اس کی باتوں کا دوبدو جواب دے رہی تھی
أپ کی فوریٹ بلیک کافی میں زہر مل کر یا پھر کھانے میں
فرش سے چاے نماز اٹھا کر الماڑی میں رکھتے بولی
تو کیا اب –مجھے ایک گارڈ کھڑا کرنا پڑے گا تاکہ میری بیوی– میری بلیک کافی میں زہر نہ ملا سکے– اور اس کا مجھے مارنے کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکے
وہ عروشہا کا غصہ سے لال چہرہ دیکھ کر مزے سے بولا
جی بلکل ___ عروشہا نے اتنا کہا اور کمرے سے باہر نکل گٸی اس سے پتا تھا کہ اب وہ کمرے میں مزید رکھی تو ارحام بار بار ایسے سوال کرکے سانس محال کر دۓ گا—- عروشہا کے کمرے سے نکل جانے کے بعد کمرے میں ارحام کا زور دار قہقہ گھونجا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial