ہجرے عشق

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 28

دو دن گزر گٸے تھے اس رات والی بات کو نہ ہی عروشہا نے اس رات کے بعد ارحام سے کوٸی بات کی تھی
اور نہ ہی اس کا ارادہ تھا عروشہا سے بات کرنے کا ابھی بھی عروشہا کے ادا کیے الفاظ اسے رھ کر تکلیف دے رہے تھے جب کہ اس نے ساری سچاٸی سے اسکو أغاھ گیا تھا پھر بھی وہ اس پر اعتبار نہیں کررہی تھی
وہ دن بہ دن غصہ کا تیز ہوتا جا رہا تھا وہ اپنی اضطراب حالت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا — عروشہا کا دماغ تو بس اِس بات پر ہی اٹک گیا تھا کہ وہ ایک قاتل ہے اسے نے اس کے سامنے ہی أدمی کو بے رحمی سے مار دیا —- اوپر سے جو ارحام نے اس کے ساتھ رویہ رکھا تھا ۔۔۔وہ اور زیاد اس کو اندر سے ڈرا گیا تھا
یارم مجھے أپ سے کچھ کہنا ہیں
دوپہر کا وقت ہو رہا تھا جب مایا یارم کے لیٸے چاۓ لاٸی تھی یارم نے سر درد کا کہا تھا تو مایا نے چاۓ بنا کر اس کے أگٸے کی تھی
وہ لیپ ٹاپ کی اسکرین پر نظر جماۓ کام کر رہا تھا جب مایا صوفے پر بیٹھی اسے دیکھ کر کہا تھا– اور چاۓ کا کپ اس کی ہی ساٸیڈ والے ٹیبل پر رکھا تھا
ہمممم کہو ویسے بھی میرے کان وہ تین الفاظ سُنیں کو ترس رہے ہیں
وہ مایا کی جانب دیکھے بغیر ہی کہہ رہا تھا
یارم — اسے نے اس سے سختی سے دانت رگڑتے کہا
اچھا یار نہیں کرتا تنک بولو تم کیا کہہ رہی تھی
یارم نے اس کی جانب دیکھ کے پیار سے کہا اور پھر چاۓ کا گھونٹ بھرنے لگا تھا
مجھے چوڑیاں چاہیے
مایا کی فرماٸش پر یارم نے پھٹی أنکھوں سے اسے گھورا
کیوں ___ یارم نے سنجیدگی سے کہا
کیونکہ ان چوڑیوں کا میں فندا بناٶں گٸی اور پھر اس ہی فندے کو گلے میں ڈال کر اپنی جان دیں دوگٸی
وہ اس کے لاپراھ سوال پر اسے دیکھ کے چڑچڑی ہوتی بولی
نیک کام کرنے میں دیری کیسی أج ہی یہ نیک کام کرو تم
مایا کو دیکھ مزاقنہ انداز میں کہتا پھر سے وہ لیپ ٹاپ میں مصروف ہوا
یارم — وہ اب بے بسی سے اسے پکارا
جی میرا بچہ — وہ اس کی طرف دیکھے بغیر بولا
مجھے چوڑیاں چاہیے — وہ منہ بسور کے پھر سے فرماٸش کرنے لگٸی تھی
پرسو جو لایا تھا وہ بھی چوڑیاں تھی شاید جو تم بھول گٸی ہو
وہ اب کی بار اس کی طرف متوجہ ہوا
ہاں تو ایک رنگ کی چوڑیاں ایک ہی ڈریس پر میچنگ ہوتی ہے
وہ اس سے دھیان سے سُن رہا تھا
ڈوپٹہ جولری سینڈل چوڑیاں ہر چیز تم لڑکیوں کو میچنگ کیوں چاہیے ہوتی ہیں شکر ہے شوہر میچنگ ڈریس کا نہیں مانگتیں ورنہ تم سب کی سب لڑکیاں کنواری ہوتی
چھوڑیں یہ سب باتیں أپ یہ بتاٸیں چوڑیاں لاٸیں گٸے کہ نہیں
مایا اس کو ترچھی نظروں سے گھورتی بولی
تمھاری چوڑیاں خریدتے خریدتے ایک دن یارم چوہدری پورا کنگال ہوجاٸیں گا مگر یہ تمھاری چوڑیاں خریدنے کی فرماٸش کبھی ختم نہیں ہونے والی ہیں نا!!!!
اس کے الفاظ پر مایا تو جیسے صدمہ میں چلی گٸی تھی کہ اس کا شوہر مطلب چوڑیاں خریدنے سے کنگال ہوگیا وہ حیریت سے بیڈ پر بیٹھے یارم کو منہ کھول کر دیکھ رہی تھیں جب کہ یارم اس کا چہرہ دیکھ نچھلا ہونٹ دانتوں میں دباۓ ہنسی با مشکل روک رہا تھا
چوڑیاں خرید لیکر دیتے ہیں أپ !!! نہ کہ ڈاٸیمنڈ جو أپ کنگال ہو گٸے ہو–
صدمہ سے نکل کر اس نے بھی اپنی صفاٸی دی أخر اسکا شوہر چوڑیوں کے بارے میں بول رہا تھا وہ کیسے برداش کرکے چپ رہتی اس سے تو عشق تھا چوڑیوں سے
میں ہوا ہوں تمھاری چوڑیوں سے کنگال
اب وہ لیپ ٹاپ بند کرتا بیڈ سے اٹھا تھا اور مایا کو دیکھ کر دل میں ہنس رہا تھا
اب أپ مجھ سے بات مت کریں گا
وہ صوفے سے اٹھ کر کھاجانے والی نظر یارم پر ڈالتی پیر پٹختی کمرے سے باہر نکل گٸی تھی غصہ میں اس کا لال چہرہ دیکھ کر یارم کا قہقہ گھونجا تھا
وہ پہلے سے ہی اس کے لیٸے چوڑیاں لایا تھا بس وہ اس کو جان بوجھ کر زچ کر رہا تھا
یارم مسکراتا نفی میں سر ہلاتے واشروم میں گس گیا
مایا غصہ سے بھرا لال مرچی والا چہرہ لیکر شاہدہ بیگم کے کمرے میں گٸی تھی جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوٸی شایدہ بیگم دوپہر کی نماز ادا کر رہی تھی وہ بیڈ پر بیٹھ کر شاہدہ بیگم کے فارگ ہونے کا انتظار کرنے لگی تھی
*********** راٸٹر سارہ میر *********
شاہدہ بیگم نے جیسے ہی سلام پھیرا اس کی نظر بیڈ پر مایا منہ پھولاۓ بیٹھی نظر أٸی تھی دعا مانگ کر وہ اٹھی تھی اور چاے نماز کو سیف میں احترام سے رکھ کے مایا کو مخاطب کیا
کیا ہوا میری بیٹی کو اس طرح منہ لٹکاٸیں کیوں بیٹھی ہیں کیا مجھ سے ناراض ہے—
شاہدہ بیگم نے دل سے مایا کو بہو نہیں بلکہ زیادہ بیٹی مانا تھا اور ان کا مزاج بھی بہت نرم پیار بھرا ہوتا تھا جس وجہ سے مایا بھی ہر بات شاہدہ بیگم سے بے جھجھک کہہ دیتی تھی وہ بیڈ کے اوپر والی ساٸیڈ پر بیٹھی تھی اور مایا کو دیکھا
مایا دنیا بھر کی معصومیت چہرے پر سجاۓ أنکھیں ٹپٹپاتے شاہدہ بیگم کو دیکھ رہی تھیں شاہدہ بیگم نے اس کا پیار سے گال تھپتھپایا
امی میں أپ سے نہیں بلکہ أپ کے بیٹے سے ناراض ہوں — اور امی أپ کو پتا ہے !!! یارم کا جیسے ہی دن بہ دن اچھا کام چل رہا ہیں —– اور ان کی کمپنی ترقی کر رہی ہے — وہ اور زیادہ کنجھوس ہوتا جا رہا ہیں
مایا بولنا سٹارٹ ہوٸی تو نان سٹاپ بولتی چلی گٸیں — اس کی بات سُن کر شاہدہ بیگم کا چہرہ کھلکھلایا تھا وہ اب ان دونوں کو دیکھ کر ہی تو جیتی تھی
ایسا کیا کہا ہے میری بیٹی کو یارم نے ابھی بتاٶ میں اس کی کلاس لیتی ہوں
شاہدہ بیگم مایا کو دیکھ مسکراتے کہا
جی امی أپ ان کی کلاس لیں —- أپ کو پتا ہے میں نے یارم سے کہا مجھے چوڑیاں لیں دیں تو کہتا ہے — میں تمھاری چوڑیاں خریدتے کنگال ہوگیا ہوں — امی أپ ہی بتاٸیں بھلا چوڑیاں خریدنے سے کون کنگال ہوجاتا ہے
وہ منہ بسور کر یارم کی شکایت شاہدہ بیگم سے کرنے لگی تھی — شکایت کرتے وقت وہ چھوٹی معصوم سی بچی لگ رہی تھی جس کو کھیلونا لیکر دینے سے منع کیا جاتا ہے
شاہدہ بیگم اس سے پہلے کہ مایا کو جواب دیتی یارم ان کے کمرے میں داخل ہوا تھا— یارم کو پوری گارنٹی تھی کہ وہ اس کی شکایت لگانے پکا اس کی ماں کے پاس گٸی ہوگٸی اور اسکا یہ اندازہ سہی بھی ثابت ہوا تھا
کیوں بھٸی یارم تم میری بیٹی کو چوڑیاں لیں کے کیوں نہیں دیں رہے
وہ کرسی کھینچ کر شاہدہ بیگم کے سامنے رکھ کر اس پر براجمان ہوا تھا —تاکہ بیچارا اپنی صفاٸی شاہدہ بیگم کے سامنے سہی سے ثابت کرسکے
امی لگا دی أپ کی بیٹی نے میری شکایت —- امی اب اس میں میرا قصور نہیں ہے أپ کی بیٹی کا دل ہی نہیں بھرتا چوڑیوں سے پرسو ہی نیوں ریڈ رنگ کی چوڑیاں لیں کے أیا تھا— اور أج پھر أپ کی بیٹی نے فرماٸش کی روز روز کیا اب میں چوڑیاں خریدوں گا —- اب یارم چوہدری ہر روز چوڑیوں کے دکان پر کھڑا ہوتا اچھا لگتا ہے کیا
یارم نے بھی أتے ہی اپنی صفاٸی پیش کی تھی
ہاں تو بیوی کی خواہشات پوری کرنا شوہر پر فرض ہیں
مایا نے یارم کو گھورتے کہا
تو کیا بیوی کے کچھ فراٸض نہیں ہیں — اس نے بھی دوبدو اس کے لہجے میں جواب دیا
ہاں تو میں پورے کرتی ہوں أپ کے سب فراٸض
مایا پوری طرح لڑنے کے لاۓ جنگ میدان میں کھڑی تھی—
اچھا وہ جو تم نے میری شرٹ پریس کرتے وقت جلا دی تھی !!!!!واہ اس طرح فراٸض نبھاٸیں جاتے ہیں—
یارم نے مایا کو گھور کر طنزیہ انداز میں کہا—
ہاں تو وہ غلطی سے جل گٸی تھی!!! أپ تو أٸے دن شرٹ کا طعنہ دیتے ہو—
اب مایا روہانسی ہوگٸی تھی کچھ دن پہلے یارم نے اس سے شرٹ پریس کرنے کا کہا تھا جو مایا سے جل گٸی تھی تب سے لیکر یارم اکثر اس کو یہی طعنہ دیتا تھا —- شاہدہ بیگم کبھی یارم کی بغور بات سُن رہی تھی تو کبھی مایا کی — شاہدہ بیگم دونوں کی بلی چوہے کی نوک جوک دیکھ کر مسکرا رہی تھی
بس — دونوں کو چپ نہ ہوتا ہوا دیکھ کر بلند أواز میں شاہدہ بیگم نے کہا تھا کہ یکدم دونوں کی چلتی زبان کو بریک لگی تھی
تم دونوں بچوں کی طرح لڑ رہے ہو — جب تم دونوں کے خود کے بچے ہوگٸے تو کیا کروں گٸے— انہیں سمبھالوں گٸے یا پھر خود لڑنے شروع ہو جاٶں گٸے
شاہدہ بیگم اپنی ہنسی روکتی ان دونوں کو شرمندہ کر گٸی تھی مایا شاہدہ بیگم کی بات پر شرم سے پانی پانی ہوگٸی تھی
امی کچن میں تھوڑا سا کام ہے میں بعد میں أتی ہوں—
مایا نے جلدی سے جان چھوڑانی چاہیے کیونکہ وہ شاہدہ بیگم سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھیں فوراً بھانا بنا کر کمرے سے نکل گٸی تھی
اس کی جلد بازی پر شاہدہ بیگم مسکراٸی تھی
اور تم بہت تنک کرنے لگے ہوں أج کل میری بیٹی کو دوبارہ أگر تمھاری کوٸی شکایت أٸی تو اچھا نہیں ہوگا —
شاہدہ بیگم یارم کو دیکھ پیار بھرے لہجے میں ڈانٹا تھا کہ یارم نے مسکرا کر سر ہاں میں ہلایا تھا شاہدہ بیگم کو اللہ حافظ کہہ کر وہ کمرے سے نکل گیا
ملی تم یہاں کیوں کھڑی ہو—- ضاور جو سیڑھیوں سے نیچھے أرہا تھا کہ ملی کو سیڑھیوں پر کھڑا دیکھ پوچھتا ہے
یہ دیکھو — ملی نے اپنا موباٸل ضاور کی جانب کیا تو ضاور نے اس کے ہاتھ سے موباٸل لیکر مسیج دیکھنے لگا —
یہ تو وقار کے دوسرے خاص أدمی کی لکویشن ہے— وہ مسیج سے نظریں پھیر ملی کو دیکھا
ہاں وقار کے دو ہاتھ مظبوت تھے جن میں سے ایک یونان تھا جس کا تو پتا صاف کردیا ہم نے اور دوسرا یہ زین ابھی ہرش نے اس کی موباٸل ہیک کی ہے اور مجھے ڈیٹیل بھیجی
وہ سنجیدہ ہوکر ضاور کو دیکھ بولی
میں ارحام کو بتا کر أتا ہوں — ضاور سیڑھیاں اوپر کی عبور کرنے لگ تھا کہ ملی کی بات سے اس کے چلتے قدموں کو فوراً بریک لگا وہ مڑ کے ملی کو دیکھنے لگا تھا
نہیں !! ہم باس کو اس بارے میں ابھی نہیں بتاٸیں گٸے!! کیونکہ ان کا ابھی تک بازٶ پوری طرح ٹھیک نہیں ہوا !!
ملی نے سرد أنکھوں سے ضاور کو دیکھ کہا تھا اس کی بات ضاور کو حیران کن لگی تھی
ملی !! تمھارا ماٸنڈ ٹھیک ہیں ارحام سے ہم اتنی بڑی بات چُھپا نہیں سکتے !! اور تم جانتی ہو وہ جھوٹ ایک منٹ میں پکڑ لیتا ہے ! ایسا کرنے سے کہیں وہ ہم سے ناراض نہ ہوجاٸیں
ضاور نے اپنی کشمکش بتاٸی تھی جس میں وہ الجھ رہا تھا
ہاں ! لیکن ابھی مجھے یہی ایک راستہ نظر أ رہا ہے ! میں جاٶں گٸی زین کو پکڑنے اس سے ایسے نہیں ماروں گٸی تم پریشان نہیں ہو میں بس اس کو پکڑ کر باس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کروں گٸی اور یہ اتنا جلدی میں کام ختم کروں گٸی کہ باس کو معلوم نہیں پڑے گا
وہ ضاور کو پورا مطمٸن کرنا چاہتی تھی
لیکن ! ملی وہاں تمھاری جان کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے سمجھنے کی کوشش کرو
ضاور اس کے لیٸے فکر مندہ تھا حالاکہ کہ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ ملی ایک بھادر لڑکی ہے وہ خود اپنی حفاظت کر سکتی ہے أخر ہے تو وہ ایک لڑکی نہ إ عورت چاہیے کتنی بھادر کیوں نہ ہو لیکن ہمیشہ مرد کی طاقت کے أگٸے کمزور ہوتی ہے — اور ویسے بھی وہ ایک کوٹھے پر جا رہی تھیں
تمھیں میری قابلیت پر شک ہے — ملی نے گھور کر ضاور سے پوچھا
نہیں نہیں!! ملی ایسی کوٸی بات نہیں ہے مجھے تمھاری فکر ہیں اسلیٸے کہہ رہا ہوں تم خامخواھ ایسا سوچ رہی ہو ہم میں سے کبھی کسی نے بھی تمھاری قابلیت پر شک نہیں کیا— تم مجھ سے اور ہرش سے زیادہ ایکٹو ہو —
ضاور نے اسے تحمل سے سمجھایا —
میں جا رہی ہوں — باس اگر میرے بارے میں پوچھےتو کچھ بھی بھانہ بنا دینا — ویسے بھی تم بھانے بنانے میں ایکسپرٹ ہو —
جاتے جاتے وہ ضاور کا خون جلا گٸی تھی– ملی اپنی گاڑی لیکر ہواٶں سے تیز باتیں کرتی وہاں سے لے گٸی
تم سے تو اللہ پاک ہی پوچھے گا ملی — ملی جس جگہ سے باہر نکل گٸی تھی اس ہی جگہ کو ضاور گھورتے ہوۓ بولا تھا
تم دونوں مجھے ایسی جگہ پر کیوں لاٸے ہو دماغ خراب ہوگیا ہے تم دونوں کا کیا —
شایان کے دوستوں نے اسے کال کی تھی اور کہاں کہ أ جا کہیں گھومنے چلتے ہیں پہلے تو بہت بار شایان نے چلنے سے منع کیا لیکن اس کے دوستوں نے بھی تھان لی تھی کہ جب تک وہ چلنے کے لیٸے ہاں نہیں کرتا وہ اس کا پیچھا نہیں چھوڑیں گٸے ان تینوں کی گاڑی جیسے رُکی جہاں وہ پہچناں چاہتے تھے وہاں پہنچ چکے تھے
شایان جیسے ہی گاڑی سے باہر أیا اپنےدونوں دوستوں کو دیکھ ان پر بھڑکا تھا کیونکہ وہ اس کو ایک کوٹھے پر لاۓ تھے
دیکھ یار شایان غم بھولانے کے لیٸے اس سے اچھی جگہ دنیا میں اور کہیں نہیں ہے — شایان کے دوست نے اس کے کندھے پہ تھپکی دیتے کہا
اور ویسے بھی تو ہمھیں نہیں بتاٸیں گا تو کیا ہمھیں کچھ پتا نہیں چلے گا کہ تم محبت کے میدان میں فیل ہو گٸے ہو اور یقین مان یار سچ میں یہ جگہ تیرے درد کی دوا بنے گٸی
اس کا دوسرا دوست اس کو دیکھ کر بولا تھا
دانیال زبیر تم دونوں پاگل ہوگٸے ہو سچ میں — شایان نےایک بار دونوں سے اپنی محبت کے بارے میں بات کی تھی کہ وہ اپنی کزن کو پسند کرتا ہے اور جب وہ اس سے نہیں ملی تھی تب بھی ان کو ناجانے پر کیسے یہ پتا لگ گیا تھا اسلیٸے وہ اسکا غم اس طریقے سے میٹانا چاھ رہے تھے
شایان مڑکر گاڑی کی جانب جا رہا تھا کہ دانیال زبیر اس کے دونوں بازٶں سے پیچھے کھینچا تو وہ کھا خانے والی نظروں سے انہیں گھورنے لگا
اوکے تو اندر نہیں چل رہا سہی ہیں لیکن کم سے کم ہمھارے أنے کا تو ویٹ کر اب ساتھ أٸیں ہیں تو ساتھ ہی جاٸیں گٸے
زبیز نے دانیال کو پیچھے سے أنکھ ونگ کی اور شایان کو دیکھ کہا
لیکن — شایان سوچ میں پڑ گیا وہ کبھی ایسی جگہ پر نہیں أیا تھا اور اب تو اس کے سر پر سرداری کی کرسی کی بھی زمیداری تھی وہ اب سردار تھا اسے ڈر تھا کہ اگر کسی نے اسکو کوٹھے پر دیکھ لیا تو اس کی عزت کی دھجیاں اوڑھ جاۓ گٸی
لیکن ویکن کچھ نہیں دیکھ ہم نے تیری بات مانی تمھیں ہم فورس نہیں کر رہے اندر چلنے سے اب تو بھی ہمھاری بات مان — دیکھ لی ویسے بھی تیری دوست شایان جا تو چلا جا بس تو صرف کہتا تھا کہ دوستی کے لیٸے جان بھی حاضر جو ایک بات نہیں مان رہا وہ دوست میں جان کیا خاک دیں گا
دانیال نے اموشنل بلیک میل کیا اور منہ بسور دوسری طرح کر لیا تھا تو شایان اس کو ناراض دیکھ کر سوچ رہا تھا
یہاں باہر کھڑے رہنے میں تو کوٸی ایشو نہیں ہے— وہ دانیال کو دیکھ کر خود سے ہمکلام ہوا
اچھا ٹھیک ہیں لیکن تم دونوں جلدی أٶں گٸے
وہ ان دونوں کی جانب دیکھتے استیاق انداز سے کہا تھا
ہاں ہاں یار تو فکر نہ کر ہم یوں گٸے اور یوں أٸیں
دانیال چپٹی بجا کر کہا تھا پھر وہ دونوں اندر کی جانب بڑھے تھے شایان گاڑی سے ٹیک لگاۓ ان کے واپس أنے کا انتظار کرنے لگا
زبیر دانیال کے لیٸے یہ چیزیں عام تھیں شایان کی ان سے دوستی تھی لیکن کبھی اس سے کوٸی ایسی حرکت نہیں کی تھی جس سے وہ شرمندہ ہو کل کو وہ پہلی بار اسے کوٹھے پر لاۓ تھے
زبیر دانیال کوٹھے کے دروازے پر کھڑے تھے اور ایک لڑکی کو اشارہ کیا اس لڑکی کو ساڑی پہنی ہوٸی تھی میکب تو اتنا ہوی کیا ہوا تھا کہ چہرہ کم میکب زیادہ نظر أ رہا تھا اور ساڑی اس انداز میں پہنی ہوٸی تھی کہ اس کا پیٹ واضح ضاہر أ رہا تھا وہ لڑکی زبیر کے اشارہ کرنے سے مٹک مٹک کر مسکراتی بالوں کو بار بار ہاتھ پھیرتی ادا سے چلتی ان کے پاس أ رہی تھی
شما وہ دیکھ جو لڑکا گاڑی سے ٹیک لگاکے کھڑا ہے نہ !!!—-وہ ہمھارا بیسٹ فرینڈ ہیں بس بیچارا تھوڑا شرمیلا ہے _یہ اپنی کزن سے پیار کرتا تھا اور اس کو وہ نہیں ملی اب دن بھر اس کا سوگ مناتا پھرتا ہے ہم دونوں چاہتے ہیں کہ وہ اس غم سے نکل کر پھر سے خوش ہوکر زندگی گزارے !!!! تم سمجھ گٸی نہ ہمھارے أگٸے کہنے کا مطلب کیا ہے–
وہ دونوں اکثر کوٹھے پر أتے تھے اور وہاں کی لڑکیاں ان دونوں کو اچھے سے جانتی تھی
اوۓ تمھارا کام ہوجاٸیں گا لیکن ہاں مجھے کرچہ پانی زیادہ چاہیے
وہ مسکراتی ان دونوں کو دیکھ ایک أنکھ ونگ کرتے بولی
پہلے کام کرو جا کر اپنا– تمھیں پیسے مل جاٸیں گٸے
وہ اس سے دیکھ کر دانیال مسکرا کر بولا
لڑکی ہاں میں سر ہلایا وہ دونوں اندر چلے گٸے تھے وہ لڑکی شایان کے أگٸے کھڑی ہوکر اس کا سر تان پاٶں کا جاٸزہ لینے لگٸی—– وہ اسے بہت ہیڈسم لگا تھا —شایان کو اس کا خود کو گھور کر تکنا زہر لگا تھا مگر وہ نظر اندازہ کر گیا —
صاحب یہاں کیوں کھڑے ہو لگتے تو امیر گھر کے ہو ہمھیں بھی موقعہ دو کہ یہ کنیز أپ کی سیوا کر سکیں
وہ اداۓ دیکھتی شایان کا ہاتھ پکڑ کر بولی شایان کو اپنا ہاتھ اس طرح پکڑنا بُرا لگا تھا کہ ایک ہی جھٹکے سے اس کا ہاتھ خود کے ہاتھ سے جھٹک دیا—- کہ وہ لڑکی لڑکھڑا ہی تھی اور با مشکل خود کے قدموں کو سیدھا کھڑا کیا تھا— وہ لڑکی اتنی بے عزتی پر لال ہوگٸی تھی غصہ سے
تمھاری ہمت کیسے ہوٸی مجھے چھونے کی تمھیں عورت ذات کہنے سے بھی مجھے شرم أ رہی ہے
قہر بھری نظروں سے وہ گاڑی سے سیدھا ہوکر اس لڑکی کو گھورتا دھاڑا تھا اس لڑکی کو غصہ أیا
خود تو دیکھو بڑا شریف بنتا پھیر رہا ہے نہ ابھی دو منٹ میں یہ شما تمھیں ایسا سبق سیکھاٸی گٸی کہ منہ چھپاتے پھیروں گٸے ___
وہ دل میں کھڑتی شایان کو دیکھ کر غلط منصوبہ بنانے کا اراد کر چکی تھی
سوری سوری صاحب معاف کر دیں أپ نے اج میری أنکھیں کھول دی
وہ شایان کے پیروں پر گری تھیں اور ناٹک کا رونا دھونا معافی مانگ رہی تھی شایان کو کچھ سمجھ نہیں أیا کہ اچانک اس لڑکی کو ایسا کیا ہو گیا
شایان اس سے دور ہوتا اس سے پہلے وہ لڑکی ساڑی کی پیچھے والی ڈوری ہلکی کھول دی اور جیسے ہی وہ اٹھی اس کا تھوڑا ساڑی کا پلو کسکا کہ اچانک شایان کی نظر اس پر پڑی اور اپنی نظزیں پھیر گیا
صاحب یہاں بہت لوگ ہیں—- پلیززز میری مدد کریں گٸے ویسے تو میں کسی اور کو بھی یہ کہہ سکتی ہوں لیکن مجھے أپ شریف خاندان کے انسان لگے ہو میری عزت خراب ہوجاٸیں گٸی پلیززز—
وہ ماگرمچ کے أنسوں بہاتی شایان کو مدد کرنے کے لیٸے کہہ رہی تھی شایان نے پہلے تو سوچا منع کردو لیکن یہاں بات ایک لڑکی کی عزت کی تھی لیکن اسے کیا پتا کہ وہ تو اپنی عزت کو خود گرا رہی ہے
کیا مدد کروں میں أپ کی — شایان نے اسے دیکھ سرد لہجے میں کہا
أپ کمرے میں اندر چل کر پلیزززز یہ ڈوری باندھ دیجٸے گا أپ کا یہ احسان میں پوری زندگی نہیں بھولوں گٸی —
نہیں یہ میں نہیں کر سکتا لیکن ہاں أپ مجھے بتاٸیں کہ یہاں کوٸی أپ کی دوست ہے تو میں اس سے بلا کر لاتا ہوں—
وہ صاف انکار میں جواب دے کر دوسری جانب اپنا رُخ کرگیا
بس صاحب جی— أپ نے پہلے تو اتنی اچھی عزت کی سیکھ دی مجھے لگا کہ أپ سب سے الگ انسان ہیں اسلیٸے بڑی امید سے مدد طلب کی أپ سے پر مجھے پتا نہیں تھا ——کہ جو اتنی اچھی بات کر رہا ہے وہ مدد کے لٸے انکار کریں گا
وہ ممناٸی اور اموشنل بیلک میل کرنے لگٸی تھی کہ شایان شرمندہ ہوا تھا
ٹھیک ہے چلے أپ أگٸے چلے میں اپکے پیچھے اوکے تاکہ أپ پر کسی کی نظر نہ پڑے——
وہ ناٹک کے أنسوں صاف کرتی أگٸے چلنے لگی تھی اور شایان داٸیں باٸیں کی طرف دیکھ کر اس کے پیچھے چل رہا تھا —-وہ شایان کو اپنے پیچھے أتا دیکھ کر سیطانی مسکراہٹ سے چل رہی تھی—— اسکا پلین کامیاب کر گیا تھا—- وہ شایان کو اوپر فلور پر سیڑھیاں چھڑتی لے گٸی تھی اور ایک کمرے پر کھڑی ہوکر پیچھے دیکھا جہاں شایان کھڑا تھا —
ناجانے شایان کو عجیب سی بے چینی نے أ گیرا دماغ تھا کہ اس لڑکی کے ساتھ اندر کمرے میں جانے سے روک رہا تھا اور ایک دل تھا جو بار بار اس کو یہ ملامت کر رہا تھا کہ اس بیچاری کی بس کیسے بھی کرکے مدد کرنی ہے —
موباٸل کی لکویشن دیکھ ملی نے گاڑی روکی اور شیشے سے باہر جھانکا جہاں سامنے کوٹھے کے دروازے کے اندر کچھ لڑکیاں اور لڑکے کھڑے ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے
ملی نے ڈیش بورڈ سے گن لیکر جیب میں رکھی اور خود کو ایکٹو کیا تھا ٹھنڈی أہ بھری تھیں اور گاڑی سے باہر نکلی تھی باہر کا پورا جاٸزہ لیا
اور اس کوٹھے کے پیچھے والے حصے کی جانب بڑھی تھی کیونکہ وہاں سے لوگ کم اندر جاتے تھے اور ملی وہاں چھپ کر جا رہی تھی تاکہ زین کو بھنک بھی نہ لگٸے کہ کوٸی اس کو پکڑنے أیا ہے
وہ چھپتے چھپاتے پیچھلے دروازے سے اندر گٸی اور دھیرے دھیرے سے یہاں وہاں دیکھتی اوپر کے فلور کی جانب بڑھ رہی تھی —
وہ لڑکی کمرے کے اندر داخل ہوٸی تھی —شایان نے خود کی گھبراہٹ پر قابو پاتے اس لڑکی کے پیچھے کمرے کے اندر داخل ہوا تھا
شایان کو اس لڑکی نے اشارہ کیا کہ ڈوڑی باندھو شایان نے نظریں زمین پر جھکاۓ ہاتھ اس کے کانپ رہے تھے اسے با مشکل اس طرح اس لڑکی کی ڈوری باندھی تھی کہ شایان کی اگلیاں اس کو ٹچ تک نہ ہوٸی تھیں
صاحب بہت بہت أپ کا شکریہ أپ نے میری عزت بجاٸی ہیں
وہ مسکراتی شایان کو دیکھ کر بولی تھی شایان کا چہرہ پیلا تھا جیسے اس کے جسم میں ایک بوندہ خون کی نہ ہو
صاحب أپ اتنی محنت سے میرے ساتھ یہاں أۓ ہیں یہ تھوڑا پانی پی لیں
وہ ٹیبل سے پانی کا گلاس اٹھا کر شایان کے أگٸے کیا کہ شایان جیسے ہی وہ اس کے ہاتھ سے وہ گلاس لینے کے ہاتھ أگٸے کیا ہی تھا—- اس لڑکی نے جان بوجھ کر تھوڑأ جھک کر اس کے کوٹ پر پانی ہار دیا
سوری صاحب غلطی سے ہوگیا سچ میں !!! میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا —
وہ روہانسی ہوتی بولی تھی
اٹس اوکے — واشروم کہاں ہے —
جہاں کوٹ پر پانی گرا تھا وہ اس کو جھاڑتے بولا
جی یہ رہا — اس لڑکی نے أگٸے کی جانب اشارہ کیا تھا شایان کوٹ کو دیکھ کر واشروم کی طرف بڑھ گیا
وہ پیچھے سے بیڈ پر بیٹھی اپنے گندے منصوبہ کے کامیاب ہونے پر خوش ہو رہی تھی ابھی ایک سیکنڈ نہیں گزرا تھا کہ دروازہ پر دستک ہوٸی تھی
وہ چونکی پر اٹھ کر دروازہ کھولا
شما چل یہاں سے بھاگ پولیس والوں نے ریٹ ماری ہے دیر ہوٸی تو پکڑی جاٸیں گٸی نکل یہاں سے أ جا
جیسے اسے نے دروازہ کھولا تھا کہ سامنے ہی جو کہ اس کی دوست تھی اس کو تفصیل سے بات بتاٸی
کیا تو پھر بھاگ — وہ ہربڑی میں یہ کہتی دروازہ کھولا چھوڑ کر دونوں وہاں سے بھاگی تھیں
ملی اوپر والے فلور پر ایک ایک کمرہ بڑی ہوشیاری سے چیک کر رہی تھی—- جب اچانک اس کی نظر اس کمرے پر گٸی تھیں—- جس کا دروازہ کھولا تھا —–وہ ہاتھ میں گن لیٸے اسکا اگٸے نشانہ بناتی چلتی اس کمرے پر أ کھڑی ہوٸی تھی– اور ہر طرف نظر گھما کر اندر دیکھا تھا —-کچھ سوچ کر اندر داخل ہوٸی —–
وہ کمرے میں داخل ہوٸی– کہ لاٸٹ اچانک بند ہوگٸی لاٸٹ کے جانے سے کمرے میں اندھیرا چھا گیا تھا—- ملی نے یہاں وہاں ہاتھ مارا کہ اس کا ہاتھ کھولے دروازے کو لگا اور وہ درام سے لاک ہو گیا تھا —–
شٹ — وہ افسوس کر رہی تھی کہ دروازہ بند ہوگیا اس کی وجہ سے—
شایان کو باہر سے اچانک أواز سُناٸی دی تھی—- وہ کوٹ وہی واشروم میں رکھ کر وہ باہر أگیا تھا— کیونکہ واشروم کی بھی اچانک لاٸٹ بند ہونے سے وہ چونکا تھا
کون ہے — شایان کی أواز اس اندھیرے میں گھونجی ملی کو اس کی أواز جانی پہچانی لگٸی تھی— اور گن کو گھوماں کر یہاں وہاں نشانہ بنایا کہ شاید کوٸی دشمن ہے
ملی دھیرے سے قدم اٹھاکر مقابل کے سر پر گن رکھی تھی اچانک کسی نے سر میں کچھ رکھنے کی وجہ سے شایان شاکت ہوا تھا—
تم کون ہو شرافت سے سچ بتاٶ ورنہ مجھے گن صرف رکھنی ہی نہیں چلانی بھی أتی ہے —
اپنے پیچھے سے کسی لڑکی کی جانی پہچانی أواز پر شایان حیران ہوا
شایان نے اندھیرے کمرے کا فاٸد اٹھایا اور ٹانگ مقابل کی ناٹگ پر زور سے وار کیا کہ اس کے ہاتھ سے گن نیچھے گری—-
اور شایان نے ایک ہی منٹ میں اس کو زور سے دیوار سے پن کر گیا تھا اپنے دونوں ہاتھوں کی اگلیاں اس کی اگلیوں میں پیوست کی تھیں اچانک ہونے والے حملے کی وجہ سے ملی کو کچھ سمجھ نہیں أیا تھا اوپر سے پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا —-
مجھے کیوں مارنے أٸی ہو — شایان نے اس کے کان پر جھک کر ہلکی سرگوشی کی تھی کہ ملی کا دل کیا مقابل کو چیر پھاڑ دۓ—-
۔اس سے پہلے کہ ملی کچھ کرتی اچانک لاٸٹ أ گٸی تھی لاٸٹ کے أنے سے دونوں نے پلکیں چپکاٸی تھیں
تم — دونوں نے ایک دوسرے کو پھٹی أنکھوں سے دیکھ یک زبان میں چیخ کے کہا تھا۔۔
تم مجھے مارنے کی سازش کر رہی ہو — شایان نے ملی کو دیکھ سخت لہجے میں کہا
او ہیلو لگور تمھیں مارنے کا مجھے کوٸی شوق نہیں ہے پیچھے ہٹو —
.
دانت پیستے گھورتے شایان کو دیکھ کہا تھا شایان ابھی اس کے نزیک کھڑا تھا ——
ان کے درمیان میں چند فاصلہ تھا
تم سمجھتی کیا ہو خود کو اخر اتنا ایکیٹیوڈ کس بات کا بھرا ہے تم میں —
شایان اس کع قہر بھری أنکھوں سے دیکھ سرد لہجے میں کہا
لگتا ہیں بھرے ہو سُناٸی نہیں دی میری بات کہ پیچھے ہٹو
وہ دونوں ہاتھ شایان کے ہاتھوں سے چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن شایان کی گرفت بہت سخت تھی اس کی اگلیوں میں کہ وہ کچھ کر نہیں پا رہی تھی کہ اچانک درام سے دروازہ کھولا وہ دونوں یکدم دروازے کے درام کی أواز پر ایک دوسرے سے دور ہوٸیں تھے—-
ان کی أنکھیں تو پھٹی رھ گٸیں جب اپنے سامنے پولیس کو کھڑا دیکھا تھا جو انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہی تھیں —–
کیا ہوا کنٹیوں کرو جو کر رہے تھے تم دونوں شرم أنی چاہیے !!! تمھارے ماں باپ نے اس دن کے لیٸے بھڑا کیا ہے !!!
.
پولیس اسپیکٹر نے ان دونوں کا جاٸزہ لیا تھا شایان کی شرٹ کے دو بٹن کھولے ہوۓ تھے ملی کا حلیہ ٹھیک تھا لیکن ان کو یوں قریب کھڑأ دیکھ تھا واجب تھا پولیس اسپیکٹر کا شک ہونا لیکن اب انہیں کون بتاۓ کہ وہ تو لڑ رہےتھے
دیکھیں سر أپ ہمھیں غلط سمجھ رہے ہیں ایسا کچھ نہیں ہے– شایان نے سنجیدگی سے جواب دیا
لیکن اس کی بات پر پولیس اسپیکٹر کے ساتھ ایک لیڈی ورک تھی اور ایک ھولدار تھا
تم دونوں رنگیں ہاتھوں ریٹ میں پکڑے گٸے ہو اور کہہ رہے ہو ایسا کچھ نہیں ہے– ہر مجرم پکڑے جانے کے بعد یہی کہتا ہے — کہ ہم نے کچھ نہیں کیا
پولیس اسپیکٹر نے ڈھنڈا شایان کے کندھے پر رکھتے ترچھی نظر سے دیکھ کہا تھا ریٹ کا نام سُن کر شایان کے ساتھ ملی بھی چونکی تھی اور ایک دوسرے کو پھٹی أنکھوں سے دیکھنے لگٸے تھے ان دونوں کے سر پر پورا أسمان تر تر گرا تھا
سر یہ ٹھیک کہہ رہا ہیں ہم غلطی سے یہاں أگٸے ہیں
ملی نے بھی صفاٸی دینی چاہیے اس کی بات سُن کر پولیس اسپیکٹر کے ساتھ لیڈی ورک اور ھولدار پھوٹ کر ہنس دیٸے تھے
کیا میں تم دونوں کو پاگل دیکھاٸی دیں رہا ہوں—— کہ اس بات پر یقین کروں گا کہ تم لوگ راستہ بھول کر یہاں کوٹھے پر أگٸے ہو !!! چھوٹے بچے ہو جو راستہ بھول گٸے
پولیس اسپیکٹر ہنستا ہوا ان کا مزاق اوڑھا نے لگا شایان نے گھور کر ملی کو دیکھا اور انکھوں سے کہا
گن چلانے سے اچھا تھا کہ اپنا دماغ سہی سے استعمال کرنا سیکھ لیتی
شایان کی أنکھیں ملی کو زہر لگٸی تھیں اور زور سے شوز شایان کے پیر پر مارا
أہہہہہہہہ بلی یہ کیا حرکت تھی کامن سینس نام کی کوٸی چیز نہیں ہے تم میں کیا — شایان پیر کو دیکھتے درد سے تڑپ کر چلایا تھا
تم جیسے لوگوں کے لیٸے میرے پاس کامن سینس نہیں ہے
وہ بھی گھورتی تپ کر بولی تھی پولیس اسپیکٹر لیڈی ورک ھولدار ان دونوں کو دیکھ رہے تھے
جو ڈارمہ کرنا ہے وہ چل کر جیل میں کرنا — پولیس اسپیکٹر نے لیڈی ورک ھولدار کو اشارہ کیا کہ ان دونوں کو گرفتار کرو وہ أگٸے بڑھے تھے کہ شایان بول اٹھا
ہم دونوں میاں بیوی ہیں سر ہمھارا کیا جُرم ہے جو أپ ہمھیں گرفتار کر رہے ہو — شایان کے منہ سے میاں بیوی کا نام سُن پولیس اسپیکٹر نے لیڈی ورک کو اور ھولدار کو رکھنے کا کہا تھا ملی منہ کھولے شایان کو دیکھ رہی تھی
کیوں بھٸی تمھیں کمرہ کم پھڑ گیا تھا کیا رومینس کے لیٸے جو کوٹھے پر أگٸے رومینس کرنے
پولیس اسپیکٹر نے شایان کو گھور کر کہا اسے کی بات سُن ملی شایان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پولیس والے کا حشر نشر بگاڑ دۓ
گرفتار کرو انہیں بہت دیکھ لیا ان کا ملیو ڈرامہ — پولیس اسپیکٹر اب غصہ میں أگیا تھا ھولدار نے شایان کو ہتھکڑی پہناٸی اور لیڈی ورک نے ملی کو اور انہیں گھیسٹتے گاڑی میں لے گٸے تھے اور بھی کچھ لوگ تھے ان کی گرفت میں
جیسے ہی وہ پولیس اسٹیشن پہنچ کر گاڑی رکی ان سب کو الگ الگ جیل میں ڈالا گیا تھا جیل کے اندر چھوٹا سا ٹیبل تھا ملی اس پر بیٹھ گٸی تھی اور شایان کا پریشانی سے بُرا حال ہو رہا تھا وہ جیل کے اندر ٹہل رہا تھا
بلی جیل میں ایسے بیٹھی ہیں جیسے کہ میڈم اپنے کمرے میں بیڈ پر أرام سے بیٹھی ہو إإ جب سے یہ ملی بلی سے ٹکر ہوٸی ہے شایان بیٹا تیرے بُرے دن سٹارٹ ہوگٸے ہیں جیل کا پہلی بار دیدار کر لیا —— اگر یہ بات کسی کو معلوم ہوٸی تو !!! نہیں نہیں یااللہ پاک مدد فرماں
ملی مزے سے بیٹھی اپنے ہاتھوں کے ناخون کو پھونک مار رہی تھی اور ٹانگ پر ٹانگ رکھی ہوٸی تھیں اس کو سکون سے بیٹھا دیکھ کر شایان کا خون جل رہا تھا
یہ جیل ہے بلی تمھارا کمرے نہیں جو یہاں أرام سے بیٹھی ہو
وہ اسے یاد دلانے لگا تھا کہ وہ جیل میں ہے وہ اسے گھورتے دانت پیستے بولا
لگور میں نے تم سے پوچھا کہ بتاٶ کہ میں کہاں ہوں — سو پلیززز زیادہ اکڑنے کی ضرورت نہیں ہے
وہ اس کو سرد نگاہوں سے گھورتی ٹیبل سے اٹھی تھی اور جیل کے دروازے کو دیکھنے لگی تھیں —— شایان اسے تعجب سے دیکھ رہا تھا کہ اخر یہ کرنے کیا والی ہے—- ملی نے بالوں سے پن نکالی اور بڑی صفاٸی سے تعلے کو کھولنے لگٸی
شایان اس کی کوشش دیکھ رہا تھا جو ناجانے کتنی دیر کے بعد وہ تعلہ کھول گٸی تھی
کیا ہم بھاگے گٸے— اس کی بھاگنی کی تیاری دیکھ شایان نے صدمے سے پوچھا
میں بھاگ رہی ہوں !! باقی تمھارا مجھے نہیں پتا!!
وہ لاپراھی سے بولی–
پر یہ غلط ہیں ہم اگر پکڑے گٸے تو — شایان جاچتی نظروں سے ملی کو دیکھ کر پوچھنے لگا تھا
تو کیا تم میڈیا کے أنے کا انتظا کر رہے ہو—- کہ کب وہ أٸیں—- اور تھمارے اوپر پھول برساں کر ویلکم کریں تو پھر نکلوں گٸے یہاں سے —-
ملی کو شایان کے سوال پر شدید غصہ أیا وہ کچا چبا جانے والے انداز میں بولی تھی
کبھی سیدھے منہ بات نہیں کر سکتی
وہ بھی تپ گیا تھا اس کے جواب پر—
نہیں !! وہ مختصر سا جواب دیتی دروازے سے نکل کر أپس پاس دیکھنے لگٸی تھیں شام سے لیکر اب رات ہونے کو تھی اور رات سے پہلے ان کو اپنے گھر پہنچناں بھی تھا ملی کے پیچھے شایان بھی دھیرے سے قدم باہر کی طرف بڑھا رہا تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial