قسط 29
کیا ہوا ارحام تم کچھ پریشان سے لگ رہے ہو– سب خیریت ہیں نا بھابھی تمھارے بیچ میں سب ٹھیک تو ہیں
وہ دونوں أفس میں تھے شام کے چھ بج رہے تھے ارحام گول سفید ہیرے کو ٹیبل پر بے دماغکی حالت میں اسے گھوما رہا تھا
وہ وہاں ہو کر بھی وہاں موجود نہیں تھا — وہ کھویا کھویا سا ضاور کو لگا ویسے تو وہ دونوں پانچ بجے ہی گھر چلے جاتے تھے
لیکن أج چھ بج گٸے تھے مگر ارحام کا شاید أج گھر جانے کا اراد نہیں لگ رہا تھا
ضاور کی بات پر وہ سر اٹھا کر اسے دیکھا
عروشہا مجھے قاتل سمجھ رہی ہیں وہ مجھ سے نفرت کرتی ہے ضاور اعتبار تو شاید اس نے کبھی مجھ پر کیا ہی نہیں
وہ مظبوت وجہیہ مرد أج کسی کانچ کے ٹکڑوں کی طرح بکھرا ہوا ضاور کو وہ نظر أیا اور اس کا لہجے درد سے چور تھا
ضاور نے کبھی بھی ارحام کو اس طرح ٹوٹا ہوا نہیں دیکھا تھا اس کے ہر الفاظ میں درد ہی درد عیاں تھا
بھابھی تمھیں قاتل کیوں سمجھ رہی ہیں — ایسا کیا ہوا ہے
ضاور ارحام کے سامنے والی کرسی پر بیٹھا اس کا ری ایکٹ چیک کر رہا تھا
ارحام نے ضاور کو پوری بات بتاٸی تھی وہ شاکت ہوا
وہ ویٹر مطلب وقار کا أدمی تھا — ضاور نے تجسس اور حیریت کے انداز میں پوچھا
نہیں میں نے پتا کروایا ہے وہ بس لالچی ویٹر تھا جو کہ اس کو میں نے اتنے سارے پیسہ دیٸے تھے — وہ بس گھر میں چوری کرنے أیا تھا
ارحام نے اسے تفصیل بتاٸی
ہمممم ارحام بھابھی کو تم پیار سے سمجھاٶں گٸے تو وہ ضرور —تمھاری بات پر یقین کریں گٸی مگر اس طرح ان پر غصہ کرکے تم خود سے انہیں اور زیادہ بدگمان کر رہے ہو
وہ سنجیدگی سے ارحام کو سمجھانے لگا تھا وہ سیدھا ہو کر کرسی کی پسٹ سے ٹیک لگاگیا تھا اور أنکھیں موندہ لی تھیں شاید اپنے اندر کے مچلتی ازیت سے لڑ رہا تھا
بھابھی تم سے عشق کرتی ہیں– جب تمھارا ارحام اکسینڈنٹ ہوا تھا نا دیکھا نہیں تھا کہ وہ اپنی ضد توڑ کر کس طرح دوڑی تمھارے پاس چلی أٸی تھی — ڈاکٹر نے یہ تک کہہ دیا تھا کہ تمھارا بچناں مشکل ہیں تو پتا ہے بھابھی نے کیا —- کیا تھا ڈاکٹر کا گریبان پکڑا کر اس کو دھمکی دی تھی کہ اگر اس کے شوہر کو کچھ بھی ہوا تو وہ پورے ھوسپیٹل کو أگ لگا دیں گٸی — اور تم اس بات سے خود اندازہ لگاٶں کہ بھابھی تم سے عشق کرتی ہے کہ نہیں
وہ اس کی بند پلکیں دیکھتے ہوۓ بولا تھا –جیسے ضاور کی کہے گٸے الفاظ اس کے کان کی پسٹ سے ٹکراۓ وہ فوراً أنکھیں کھول کر سیدھا ہوکے بیٹھ گیا
اگر وہ واقعی میں مجھے سے ضاور عشق کرتی نا تو مجھ پر بھروسہ کرتی — چلو مان لیا جو کچھ اس نے دیکھا اس کا اس طرح کا ری ایکٹ کرنا سہی تھا — جب میں نے اسکو سب سچ بتایا تو بھی اس نے یقین نہیں کیا میری بات پر — اور تم کہہ رہے ہو — وہ مجھ سے عشق کرتی ہیں — عشق میں تو محبوب پر أنکھیں بند کیٸے یقین کیا جاتا ہے — مگر میرے ساتھ یہاں الٹا سین ہے کہ — وہ عشق کرتی ہیں لیکن ایک پرسن بھی یقین نہیں کرتی —
. ضاور کی بات ارحام کو نا گواریت لگٸی تھی سرد لہجے سے اسے گھورتے کہا تھا کہ ضاور کو سمجھ نہیں أیا کہ وہ کیا أگٸے بولے
دیکھو — ارحام ہاں یہ تمھاری بات بلکل درست ہے بھابھی کو تمھاری بات پر یقین کرنا چاہیےتھا لیکن— تم خود ہی سوچوں کہ اگر بھابھی کی جگہ تم ہوتے تو کیا تم ایسا نہیں سوچتے جیسے بھابھی غلط فیمی کا شکار ہوٸی ہے —
وہ اسے تحمل سے سمجھانے لگا تھا
ضاور تم گھر جاٶ — وہ ٹاپک فوراً چینج کر گیا تھا اور ضاور اسکو دیکھ کر اسے سوال پوچھا
تم میرے ساتھ نہیں چلوں گٸے — وہ اس سے جانچتی نظروں سے دیکھ کر پوچھتا ہے
تم جاٶ میں بعد میں أ جاٶں گا — وہ اس کو اپنی سُنا گیا تھا ضاور نے کوٸی بات نہیں کی شاید وہ کچھ وقت تنہاں رہنا چاہتا تھا
سرسری نظر ضاور نے اس پہ ڈالی تھیں اورأفس سے باہر نکل گیا —- ضاور کو بھی ارحام کو تنہاں چھوڑ جانا سہی لگا تھا تاکہ وہ خود سوچے اور سمجھے
ملی شایان دھیرے سے قدم أگٸے بڑھا رہے تھے اور أگٸے پیچھے دیکھ بھی رہے تھے
وہ چھپتے چھپاتے بڑی ہوشیاری سے باہر نکل أۓ تھے اور ملی کو باہر کھڑی باٸیک نظر أٸی تھی ان دونوں کی اچھی قسمت تھی کہ باٸیک میں چابی لگی ہوٸی تھی ملی أگٸے شایان پیچھے دیکھتا ملی کی ہم قدمی کر رہا تھا
میں تمھارے ساتھ اس باٸیک پر نہیں بیٹھوں گا
شایان نے ملی کو باٸیک سٹارٹ کرتے دیکھ سرد لہجے سے کہا تھا
لڑکی میں ہوں — اور ساتھ میں بیٹھنے میں پروبلم تمھیں ہو رہی ہے — لڑکیوں کی طرح نخرے کرنا بند کرو جلدی بیٹھوں ورنہ تمھاری وجہ سے میں بھی پکڑی جاٶں گٸی
وہ اس سے گھورتے بولی تھی شایان مجبور ہوکر ملی کے پیچھے بیٹھ گیا اور اسے نے ملی سے اس طرح فاصلہ قاٸم رکھا ہوا تھا جیسے وہ اس سے کھا جاۓ گٸی —
سر وہ لڑکا لڑکی بھاگ رہے ہیں جو خود کو میاں بیوی بتا رہے تھے
ھولدار نے انہیں باٸیک پر بیٹھتا دیکھ کر بھاگتا اسپیکٹر کے پاس أیا اور اس نے ہڑبڑی میں اسپیکٹر کو بتایا
کیا ان کی اتنی ہمت کہ میری جیل سے بھاگیں چلو جلد کرو گاڑی نکالوں کہیں وہ دور نہ بھاگ جاٸیں
ھولدار پولیس اسپیکٹر ہربڑی میں سٹیشن سے باہر نکل کر گاڑی کو ان کی باٸیک کے پیچھے بھاگا دی
وہ دونوں ان سے کچھ دور نکل أۓ تھے شایان حیران تھا کہ ملی کو دیکھ کر کہ نا جانے اس لڑکی کو اور کیا کیا أتا ہے وہ اس سے دیکھ دل میں سوچنے لگا تھا مگر اس کی بھادری پر دل میں اس سے داد بھی دۓ رہا تھا
شٹ — سنسان سڑک پر اچانک ان کی باٸیک جھٹکا کھا کر رُکی
کیا ہوا— شایان نے ملی کو دیکھ تعجب سے پوچھا
باٸیک سے اترو گٸے تو ہی معلوم پڑے گا کہ أخر باٸیک کو ہوا کیا ہے
ملی سرد مہری اندز میں پیچھے بیٹھے شایان کو دیکھ کہا شایان کا اس کے جواب پر اس گھڑی کو کوس رہاتھا جب وہ اپنے دوستوں کے ساتھ جا رہا تھا — دانیال زبیر تم دونوں ایک بار ملوں مجھے ایسا سبق سیکھاٶں گا کہ پوری زندگی یاد رکھو گٸے — تم دونوں کی ہی وجہ سے یہ مصیبت میرے گلے پڑ گٸی ہے
وہ ملی کو گھورتے باٸیک سے اتر کر دل میں جو اس کو گالیاں أتی تھی
وہ سب کی سب دانیال زبیر کے نام کی تھیں — ملی باٸیک کا جاٸزہ لینے لگی تھی جہاں انکی باٸیک کا ٹاٸیر پنچر تھا
وہ دونوں اس سنسان سڑک کو دیکھنے لگے تھے جہاں اندھیرا اپنے پر دھیرے سے پھیلا رہا تھا
وہ دونوں ابھی کھڑے یہی سوچ ہی رہے تھے کہ کیسے اس مصیبت سے نکلا جاۓ کہ پولیس کی گاڑی کا ہارون سُن کر دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا مطلب ان کے پیچھے أ رہے تھے
وہ دونوں پیڑ کے پیچھے چھپ گٸے تھے وہاں گھنا جنگل تھا
سر یہ دیکھیں ان کی باٸیک —- ھولدار نے انکی باٸیک دیکھ کر گاڑی ویہی روکی تھی
اس کا مطلب وہ دونوں دور نہیں بھاگٸے ہر طرح پھیل جاٶ وہ کہیں بھاگ نہ پاۓ
پولیس اسپیکٹر نے تینوں ھولدار سے کہا تھا اور وہ گاڑی سے نیچھے اتر کر سڑک کے چوہداری پھیل گٸیں تھے ان کو ڈھونڈہ نے وہ دونوں پولیس والوں کو پیڑ کے پیچھے چھپ کر دیکھ رہے تھے کہ اچانک اس ہی پیڑ کی ساٸیڈ ھولدار ہر طرف دیکھنے لگا تھا کہ شایان ملی تھوڑا پیچھے ہوٸی تھے کہ اچانک ملی کا سر شایان کے سینے سے ٹکرایا ان دونوں کے بیچ میں تھوڑا ہی فاصلہ تھا
ملی شایان کے کندھے تک أ رہا تھی وہ سر اٹھا کر شایان کو دیکھنے لگٸی تھی لیکن شایان کا دھیان ان ہی پولیس والوں پر تھا کہ اچانک پولیس اسپیکٹر اس پیڑ کا جاٸزہ لینے لگا تھا وہ دونوں داٸیں طرف گھوم گٸے تھے یہ اتنی جلدی ہوا تھا کہ نہ ہی ملی کو کچھ سمجھ أیا اور نہ ہی شایان کو کہ شایان بہت نزیک ملی کے کھڑا تھا
جیسے ہی وہ پولیس والا وہاں سے دوسری ساٸیڈ پر گیا شایان نے ملی کی أنکھوں میں دیکھا جس کی أنکھیں غصہ سے انگار برسا رہی تھیں
اور ہاتھوں سے وہ شایان کو پیچھے دھکیل رہی تھی تاکہ کہ ان کے بیچ میں کچھ فاصلہ پیدا ہو سکے
لگور دور ہٹو مجھ سے ورنہ مار مار کر تمھارا منہ لال کردوگٸی اوقات میں رہوں اپنی
ملی قہر بھری نظروں سے شایان کو دیکھ کر دھیمی أواز میں دھاڑی تھی ملی کے أخری الفاظ اوقات والا شایان کی رگیں تن کر گیا تھا
کیا کہا اوقات — ابھی تمھیں بتاتا ہوں کہ میری کتنی اوقات ہیں اور کیا — کیا کر سکتا ہوں
وہ دانت پیستے ملی کو طیش سے دیکھتے اس کے دونوں بازٶں سے کھینچ کر خود کے قریب کرکے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال گیا تھا ۨ۔۔اس کی ایسی بے باک حرکت پر ملی کی جان نکل گٸی تھی اس کے دل کی دھڑکنے اتنی زور سے دھڑک رہی تھیں کہ ان کی أواز شایان کو بخوبی سُناٸی دی
شایان کی نظر اس کی دوھیا سفید گردن پر ٹہر گٸیں جو اسے اپنی طرف ماٸل رہی تھی شایان کو سردی کے موسم میں بھی گرمی کا شدید احساس ہونے لگا تھا
دور رہوں مجھ سے لگور ورنہ —- ملی جھنجھلا کر اس کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ جھنجھوڑ رہی تھی لیکن شایان کا تو دھیان اس کی دودھیا سفید رنگ کی گردن پر تھا شایان کا دماغ کام کرنا بند کر گیا تھا اسے تو یہ تک یاد نہیں رہا کہ وہ ملی کے اتنے نزیک کھڑا ہے
یکدم شایان نے ملی کو پیڑ سے پن کیا اور اس کی کمر سے ہاتھ نکل کر اس کے دونوں نازک ہاتھ ایک ہی ہاتھ میں تھام کے دوسرا ہاتھ اس کی گردن کی جانب بڑھایا ملی کی جان لبو پر أ گٸی تھی وہ جو کسی سے نہ ڈرنے والی شایان کی قربت میں بھیگی بلی بن گٸی تھی
شایان کی أگلیوں کا گرم لمس ملی کو اپنی گردن پر محسوس ہوا اس کو لگا کہ وہ کاپتی ٹانگوں پر مزید کھڑا رہنا اس کے لیٸے مشکل ہو رہا ہے شایان نے ملی کے چہرہ کی ہر نقویش کو تکنے لگا تھا وہ واقعی اتنی پیاری تھی کہ کسی کا بھی دل اس پر أ جاتا
دیکھاٶں اپنی اوقات تمھیں ہممم کیا کر پاٶں گٸی بلی میرا ایک لمس تمھاری روح فنا کر سکتا ہے اسلیٸے مجھ سے أٸندہ بتمیزی سے پیش أنے کی غلطی نہیں کرنا
وہ اس کی کان پر جھک کے دھیمی سی سرگوشی کرنے لگا تھا ملی کا دل کیا کہ وہ مر جاۓ کیوں کہ شایان کی گرم سانسیں اس کے کان کی لوح کو چھو رہی تھی کہ یکدم اس کی أنکھیں نم ہوٸی تھیں
اور فوراُ شایان نے ملی کے بالوں کو پونی سے أواز کیا تھا اس کے براٶن بال اس کے چہرے کندھے پر بھکر گٸے تھے شایان تو جیسے ہوش میں نہیں تھا وہ جو کبھی کہتا تھا کہ عروشہا کی قربت کے علاوہ اس کو اور کوٸی لڑکی اپنی طرف کھینچ نہیں سکتی وہ أج ملی کی خوبصورتی میں کھویا ہوا تھا
ملی کے بالوں کو ہاتھ سے جھکڑ اپنی طرح کھینچا ان دونوں کی گرم سانسیں ایک دوسرے کی دھڑکنوں کو بے ترتیب ہو رہی تھیں اس سے پہلے کہ شایان کوٸی گُستاکی کرکے اس کے لبوں کو اپنی دسترس میں لیتا کہ ھولدار کی أواز پر شایان جھٹکا کھا کر ملی سے دور ہوا تھا اور اپنے بالوں کو پاگلوں کی طرح جھکڑنے لگا تھا وہ کیا کرنے والا تھا
ملی تو اپنے حواسوں میں ہی نہیں تھی شایان کی نزیکی نے اس کا بہت بُرا حال بنا دیا تھا
پکڑ لیا تم دونوں کو سر سر یہ رہے دونوں—- ھولدار بلند اواز میں پولیس اسپیکٹر کو پکارنے لگا اس کی اواز سُن کر وہ اسپیکٹر بھاگ کر ان کے پاس أیا اور شیطانی مسکان لیٸے ان دونوں کو گھور رہا تھا
پولیس اسپیکٹر ان دونوں کو گھیسٹ کر سڑک پر لایا ان دونوں کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا
تم دونوں نے بھاگ کر بڑی غلطی کی ہیں — اسپیکٹر الفاظ پر زور دیتے ان کو دیکھ کر کہہ رہا تھا شایان تو جیسے صدمے میں چلا گیا تھا کہ اگر وہ ھولدار نہ أتا تو وہ خود سے کبھی نظریں نہیں ملا پاتا
شایان نے ملی کو دیکھا جو ہر وقت شیرنی بنی پھیرتی تھی وہ اب اس طرح شاکت تھی کہ اس کے جسم میں جیسے جان ہی نہ رہی ہو
خود کو سمبھالتی وہ پولیس اسپیکٹر کو گھورنے لگٸی
أپ کو سمجھ نہیں أتی اتنی سی بات کہ ہم بے گناھ ہیں کیوں خامخواھ ہمھاری زندگی عزاب بنا دی ہے
ملی نے شایان کا پورا غصہ پولیس اسپیکٹر پر برسایا تھا اس کی کھینچی کی طرح چلتی زبان پولیس اسپیکٹر کو طیش دلاگٸی تھی وہ ہاتھوں کی مٹھیوں کو ضبط سے بند کرتے ملی کو زور دار تھپڑ مارنے ہی والا تھا ——کہ شایان ملی کے أگٸے ڈال بن گیا اور پولیس اسپیکٹر کا ہاتھ ہوا میں روک دیا —- پولیس اسپیکٹر کے تھپڑ مارنے والی حرکت پر وہ اسے خونخوار نگاہوں سے پولیس اسپیکٹر کو دیکھ کے اس کا ہاتھ زور سے جھٹک دیا
قانون کے رکھ والے ہوتے ہوٸیں أپ کو اتنا نہیں پتا کہ 1979 کے تحت عورت پر ہاتھ اٹھانا سگین جرم ہے — اور جس نے ایسا کیا اس کو 10 سال کی سزاۓ جیل اور 50 ہزاز جُرمانا بھرنا پڑے گا
شایان دانت پیس قہر سے پولیس اسپیکٹر کو دیکھا تھا اور پولیس اسپیکٹر اپنی اتنی ہوتی تنزلیل پر پاگل ہوگیا —-ملی نے شایان کی جانب دیکھا تھا ناجانے کیوں لیکن پہلی بار وہ اس سے اچھا انسان لگا تھا___ جو مرد عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے ملی کی نظر میں وہ دنیا کا گھٹیا ترین انسان سمجھا جاتا تھا اور اج شایان کو عورت پر ہاتھ اٹھانے والا ہاتھ توڑ ک رکھ دیا تھا اس کی نظر میں یہ قابل دٍیدہ تھا
بڑے پر نکل أٸیں ہیں تمھارے عاشق ابھی حوالات کی ہوا جو نہیں کھاٸی اسلیٸے ھولدار گھںسیٹتے لیں چلو انہیں
وہ پولیس اسپیکٹر پوری قوت سے دھاڑا تھا اور ان دونوں کو لیکر زبردستی سے گاڑی میں پھینکا تھا وہ دونوں خاموش تھے شایان ملی سے نظر نہیں ملا پا رہا تھا اخر وہ غلطی بھی تو بڑی کرنے والا تھا
سٹیشن پہنچ کر ان دونوں کو اس ہی جیل میں ڈالا گیا تھا جس میں وہ پہلے تھے مگر اس بار وہ دونوں خاموش تھے ایک دوسرے کو دیکھ تک نہیں رہے تھے شایان دیوار سے ٹیک لگاکر نیچھے زمین پر بیٹھا تھا اور سر گھٹنوں میں دیٸے دونوں ہاتھ سر پر رکھے ہوۓ تھا
ملی نے ٹھیڑی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا شاید جو اس کو پریشان لگا تھا لیکن اچانک اس کے چہرے کے تاثرات غصہ والے ہوگٸے تھے اور اگٸے بڑھ کر شایان کے سر پر کھڑی اسے کھا جانے کو تیار تھی
تمھاری ہمت کیسے ہوٸی مجھے چھونے کی — وہ زور سے دھاڑی تھی کہ شایان گھٹنوں سے سر ہٹا کر اسکی جانب دیکھنے لگا—
جس کی أنکھیں لال اگ کی طرح تھیں– شایان نے سوچا تھا کہ وہ ملی سے اس حرکت کے لیٸے معافی مانگے گا مگر ملی کو خود کے اوپر چلاتا دیکھ وہ جھٹکے سے غصہ میں زمین سے اٹھا—— اور ایک ایک قدم ملی کی طرف بڑھا رہا تھا اس کی أنکھوں میں غصہ تھا نا جانے ملی کو پہلے بار شایان کی أنکھوں سے ڈر لگ رہا تھا وہ پیچھے ہوتی جاکر دیوار سے لگی اور شایان نے دونوں ہاتھ دیوار میں رکھ کے اس کو اپنے حصار میں قید کیا
کتنی بار کہا ہے مجھ سے تمیز سے بات کیا کرو — تمھیں ایک بات سمجھ نہیں أتی — مجھے غصہ مت دلاٶں بلی ورنہ میں خود پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھوں گا—– اور مجھ سے کچھ ایسا غلط نہ ہوجاٸیں جس سے تم بھی پچتاٶں—_ اور کل کو میں بھی سو لاسٹ وارنگ دیں رہا ہوں — اور اگر اس کے بعد بھی تم نے اس طرح کا رویہ رکھا تو — انجام کی زمیدار تم خود ہوگٸی میں نہیں — سو بلی دور رہو ورنہ یہ أگ تمھیں جلا کر راکھ بنا دیں گٸی
وہ اس کی أنکھوں میں جھاک کر طیش بھرے لہجے میں کہا اور اسکے چہرے پر أتے بالوں کو کان کے پیچھے کیا ملی پوری کانپ گٸی تھی شایان کی دھمکی سے شایان ایک جھٹکے سے اسے دور ہوا اور گردن اوپر کرتے گہرا سانس لیا تھا وہ غصہ ٹھنڈھ کرکے پھر سے خاموش نظروں سے ملی کو دیکھا پھر دیوار سے ٹیک لگاۓ زمین پر بیٹھ گیا
ارحام پورے دس بجے سلطان مینشن پہنچاں تھا اسے نے نظر پورے حال میں دوڑاٸی تھیں
بلب کی دھیمی روشنی حال میں چھاٸی ہوٸی تھی طویل خاموشی تھیں شاید سب اپنے کمروں میں کمبل کو اوڑھے نیند میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے وہ دھیرے سے سیڑھیاں عبور کرتے اپنے کمرے تک پہنچاں تھا
دروازہ کلک کی اواز سے کھول کر اندر داخل ہوا تھا صوفے کی پسٹ سے ٹیک لگاۓ عروشہا بیٹھی کوٸی ناول ریڈ کر رہی تھی
وہ قدم بڑھا کے پہلے دروازے کو لاک کیا اور حیران کن نظروں سے عروشہا کو دیکھا
کیا وہ اسکے أنے کا انتظار کر رہی تھی
نہ جانے ارحام کے دل میں اسے دیکھ سوال اٹھا تھا — عروشہا ارحام کی أمد سے واقف ہوگٸی تھی کہ وہ کمرے میں أ گیا ہے لیکن پھر بھی وہ کتاب میں اس طرح مگن تھی کہ جیسے اس کو محسوس ہو کہ وہ اس سے بےخبر ہے
وہ الماڑی کی جانب بڑھا اور ٹراٶزر شرٹ لیے واشروم میں شاور لینےچلا گیا تھا واشروم کے دروازے بند ہونے کی أواز پر عروشہا نے نظر اٹھا کر واشروم کے دروازے کو دیکھا
اور پھر وہ کتاب کی جانب نظر کر گٸی
شاور لیکر وہ باہر أیا تو عروشہا کو اس ہی پوزیشن میں بیٹھا دیکھا تھا
بیڈ کی ساٸیڈ بیٹھ کر اس نے موباٸل میں وقت دیکھا جہاں رات کے دس لگ پندرہ منٹ بج رہے تھے
ٹانگیں بیڈ پر رکھے کمبل لیکر سونے کی تیاری کرنے لگا تھا
عروشہا نے ٹھیڑی نگاہوں سے ارحام کو دیکھا ناول کو صوفے پر رکھتی ٹانگوں کو صوفے سے نیچھے لٹکاۓ وہ ارحام سے مخاطب ہوٸی
میں مر گٸی تو کیا أپ روٸیں گٸے
اچانک عروشہا کے سوال پر ارحام کا ہاتھ جو کہ کمبل کو سہی سے اپنے اوپر اوڑھا رہا تھا وہ فوراً وہی تھم گٸیں اور وہ سرد نگاہوں سے عروشہا کو گھورنے لگا —–
ارحام نے اس کی بات کا کوٸی جواب نہیں دیا تھا اور بیڈگراٶڈ سے ٹیک لگاۓ بیڈ پر لیپ ٹاپ کھول کر اس میں کچھ چیک کرنے لگا تھا
عروشہا کے سوال کو وہ نظر اندازہ کر گیا تھا اس کو بُرا لگا تھا کہ کیوں وہ اس کے سوال کا جواب نہیں دے رہا
میں ناول پڑھ رہی تھی اس میں ہیروٸن مر جاتی ہیں — ہیرو اس کی قبر پر جاکے رو رو کے اپنا بُرا حال کر دیتا ہے — اس نے کہیں ستم کیٸے تھے اپنی ہی محبت پر — ڈرایا دھمکایا وہ جب جب اس سے پوچھتی تھی کہ کیا وہ اس سے محبت کرتا ہے —- تو أپ کو پتا ہیں — وہ کیا ہیرو جواب دیتا تھا — کہ نہیں میں نے کبھی تم سے محبت نہیں کی — اور جب وہ دنیا سے چلی گٸی — تو وہ ہیرو اس کی جُداٸی میں دن بہ دن پاگل ہوتا گیا — اور روز اس کی قبر پر جاکے اس سے محبت کا اظھار کرتا —-
تو کیا اگر میں بھی مر جاٶں گٸی تو تب أپ بھی میرے لیٸے اس طرح روٸیں گٸے—-
عروشہا کا بات کرنے کا اندازہ دھیمہ تھا لیکن اس کے الفاظ ارحام کے دل کے ہزار ٹکڑے کرگٸے تھے وہ لیپ ٹاپ سے سر اٹھا کر عروشہا کو نفرت سے دیکھنے لگا تھا
تمھارے مرنے سے میں کیوں روٶں گا — یہ غلط فھمی اپنے دل و دماغ سے جتنی جلدی ہو سکے نکال دو — کہ تمھارے مر جانے سے مجھے کچھ ہوگا
۔وہ سرد لہجے سے اس کے دل کو توڑ گیا تھا وہ بے یقینی سے اسے دیکھنے لگٸی
أپ کو زرا بھی افسوس نہیں ہوگا
وہ پھر سے سوال کر گٸی تھی شاید وہ یہ سُنا چاہتی تھی کہ ارحام کہے کہ تمھارے مرنے سے مجھ میں باقی کچھ رہے گا ہی نہیں مگر وہ تو اس کے برعکس جواب دے رہا تھا
نہیں تو افسوس کیسا — وہ پتھریلے انداز میں لیپ ٹاپ میں سر دیٸے کہہ رہا رتھا
مرنے کے بعد شوہر بیوی کا نکاح ختم ہوجاتا ہے — پھر وہ بیوی شوہر کے لیٸے نا محرم مانی جانتی ہے — میرے مرنے کے بعد تو أپ تو میرے اخری دیدار کو بھی ترسیں گٸے — پھر شاید أپ کو ہجرۓ عشق کا مطلب سمجھ أٸیں
وہ اس کی اتنی بے قدری پر اور تلخ رویہ سے ازیت کی انتہا پر پہنچھ گٸی تھی
—ارحام سلطان ہجرۓ عشق میں کبھی نہیں روۓ گا —– تمھارے جنازے سے پہلے ہی میں دوسرا نکاح کروں گا — اور پھر میں بھی اس کا—-اور یہ گھر کمرے بھی اس ہی کا ہوگا —-
وہ تلخ لفظوں سے زہریلے تیز چلاتے عروشہا کے سینے میں پیوست کرگیا تھا
یکدم عروشہا کی أنکھوں سے أنسوں نکل کر رخسار پر بہہ گٸیں
وہ بھی اندر سے رو رہا تھا کیسے وہ اسے یہ پوچھ رہی تھی کہ اس کے مرنے سے وہ روۓ گا — اب اس کو یہ بات کون سمجھے کہ وہ اس کے بچھڑنے کے بعد زندہ رہے گا تو ہی روۓ گا نہ وہ تو اس کی جداٸی کے نام سے ہی تڑپ جاتا تھا—– اور پھر وہ اس کے مرنے سے زندہ کیسے رھ پاتا
ارحام نے لیپ ٹاپ کو بیڈ کے دوسرے ساٸیڈ پر رکھ کے لیمپ بند کرتے سو گیا عروشہا کی اور ایک بار بھی پھر اس نے نہیں دیکھا تھا
وہ دونوں ہی ایک دوسرے کے جُدا ہونے سے ڈرتے تھے لیکن ان دونوں کے بیچ ہمیشہ أنا أ جاتی تھی
بے دردی سے رخسار سے أنسوں صاف کرتی وہ صوفے پر ہی لیٹ گٸی تھی
دونوں کی أنکھوں میں سے نیند کوسو دور تھیں
عروشہا بار بار کروٹ بدل رہی تھی سکون کے لیٸے لیکن اس کا سکون تو ارحام کے الفظوں نے مٹی میں ملادیا تھا
اور یہ حالت ارحام کی بھی تھی وہ کب سے نیند کے لیٸے أنکھیں بند کیٸے کوشش کر رہا تھا کہ نیند بھی أج اس پر مہربان نہیں ہورہی تھی
عروشہا کے بار بار الفاظ اس کو بے چین کر رہے تھے وہ کیوں اس کو سمجھ نہیں پا رہی تھی
رات کے تین بج رہے تھے پر ارحام کی ایک منٹ بھی أنکھیں نہیں لگٸی تھی اخر بیزار ہوتے اٹھ بیٹھا اور عروشہا کی جانب دیکھنے لگا شاید وہ سو چکی تھی وہ کمبل کو خود سے اٹھاتے چپل پہن کر صوفے کے نزیک گیا اسے کے چہرے پہ رونے کے نشان گال پر ظاہر تھے
وہ زور سے مٹھیاں میچ گیا اور اسکو کو دیکھنے لگا تھا ارحام کو ضاور کے کہے الفاظ یاد أۓ کہ وہ اسے پیار سے سمجھاۓ
کنتی ہی دیر تک وہ وہی کھڑا عروشہا کو حسرت سے دیکھنے لگا عروشہا ٹھنڈہ میں کانپ رہی تھی ارحام نے بیڈ سے کمبل اٹھا کر اس کے اوپر سہی سے اوڑھا تھا اس کی پیشانی پر بوس دیا تھا وہ نیند میں بھی ارحام کے لمس پر کسمساٸی تھی ارحام اس کا کسمسانے پر اس کے لبوں پر دل فریب مسکان أٸی تھیں پھر بیڈ پر أکے سونے کی پھر سے کوشش کرنے لگا —–
وہ اب عروشہا کو پیار سے سمجھانے کا ارادہ کر چکا تھا اور اسے خود سے کبھی دور نہیں جانے دیٸے گا — اور یہ بھی اسے نے خود سے وعدہ کیا تھا
شایان ملی کی بھی پوری رات کبھی ان کی أنکھ لگتی تو کبھی جھاگ رہے تھے جو پریشانی سے جیل کے اندر گزری تھی
اندھیری رات گزر گٸے تھیں اور سورج نے اپنا بسیرا ہر طرف قاٸم کر دیا تھا
پولیس اسپیکٹر نے ھولدار کو چاۓ لانے کا کہا تھا وہ اپنی چٸیر پر بیٹھا اب چاۓ کے لمبے لمبے سیب لینے لگا تھا
سر ویسے ایک بات کہوں اگر أپ کی اجازت ہو تو— ھولدار نے پولیس اسپیکٹر کو چاۓپیتا دیکھ کہا پولیس اسپیکٹر نے سر ہاں میں ہلایا
سر اگر وہ دونوں پھر سے بھاگ گٸے اور اس بار ہمھارے ہاتھ نہ لگٸے تو أپکی نوکری بھی جا سکتی ہیں
ھولدار کی بات سُن کر پولیس اسپیکٹر نے چاۓ کا کپ ٹیبل پر رکھا وہ ھولدار کی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
تم کس کی بات کر رہے ہو یاسین — پولیس اسپیکٹر کو بات سمجھ نہیں اٸی کہ وہ ھولدار کس کے بارے میں بات کر رہا ہے
سر وہ جو کل لڑکی اور لڑکا بھاگے تھے جیل سے اور جن کو أپ نے کوٹھے پر رگیں ہاتھوں پکڑا تھا — میں ان کی بات کر رہا ہوں
ھولدار نے بغور پولیس اسپیکٹر کو دیکھ کہا
ہاں ہاں اب سمجھا پر اس بار ایسا نہیں ہوگا اس بار ان پر کہڑی نظر رکھی ہے میں نے تم پریشان نہ ہو
پولیس اسپیکٹر اطمنان سے بولا تھا
سر — ھولدار نے پولیس اسپیکٹر کو دھیمے سے پکارتے اس کو اشارہ کیا
وہ پولیس اسپیکٹر اس کی اور تھوڑا سا جھکا
اگر یہ بھاگٸے تو پھر سے مصیبت أجاٸیں گٸی —- کیوں نہ سر ہم ان کا نکاح کروا دیں — ویسے بھی ان دونوں نے کہا تھا کہ وہ میان بیوی ہیں — اور اگر وہ میاں بیوی ہوٸیں تو وہ ٹھیک ہے اگر نہیں ہوۓ تو — سوچوں اگر أپ نے ان کو حرام رشتے سے بجا کر ایک حلال رشتے میں باندھ دیٸے گٸے تو أپ پر کتنا اللہ پاک ثواب کریں گا
اور اگر أپ انتظار کرتے ہیں کہ کوٸی ان کے گھر سے اکر ان کی بیل کروا دیں کیا پتا تب تک یہ پھر سے یہاں سے بھاگنے کی تیاری کر لیں اور ان کے گھر والے یہاں پہنچھے تو وہ بھاگ چکے ہو تو—– اس طرح أپکی نوکری پر بھی سوال أۓ گا کہ أپ نے رٍشوت لی تھی —
باقی أپ کی مرزی سر مجھے جو ٹھیک لگا أپ سے کہہ دیا —
وہ ھولدار اپنی بات کہہ کر پولیس اسپیکٹر کے کان سے دور ہوا تھا
پولیس اسپیکٹر سوچنے لگا
ویسے یاسین تمھاری بات ایک دم سہی ہے ان دونوں پر بھروسہ کرنا یانے رکس ہے — تم ایسا کرو ان کے اٹھنے سے پہلے تم مولوی لیکر أٶ اور گواھ تو ویسے بھی یہاں موجود ہیں
پولیس اسپیکٹر مسکراتے ھولدار کو حکم دے گیا تھا وہ پولیس اسپیکٹر تو بس اس بات پر مان گیا تھا کہ وہ دونوں نکاح سے انکار کرے گٸے اور وہ یہ جھوٹ اپنے منہ سے خود اگلے گٸے
ھولدار کچھ دیر کے بعد مولوی لیکے أیا تھا ابھی شایان دیوار سے لگ کر سو رہا تھا—— اس کی أنکھ کچھ وقت پہلے لگٸی تھیں اور ملی کی أنکھیں دو گھنٹے پہلے لگٸی تھیں وہ بھی گہری نیند میں تھی
ان دونوں کی أنکھ ہونے والے شور سے یکدم ایک جھٹکے میں کھولیں تھی وہ دونوں أنکھیں مسلنے لگے اور جیل کے دروازہ کو ھولدار کھول رہا تھا جو کہ دونوں کو حیرانی ہوٸی کہ کیا کوٸی انہیں چھوڑانے أیا ہے پر انہوں نے تو کسی کو اطلاح نہیں دی تھی کہ وہ جیل میں ہے
وہ دونوں اپنے دماغ میں الجھے تھے کہ ھولدار کی أواز پر تو اور زیادہ انکو دھجکا لگا
چلو أٶ نکلوں یہاں سے — ھولدار کے کہنے پر وہ دونوں اٹھ کر اس ھولدار کے پیچھے پیچھے أگٸے کی جانب چلنے لگٸے تھے
وہاں پہنچھے جہاں پولیس اسپیکٹر اور مولوی کچھ ھولدار لیڈی ورک تھیں پولیس اسپیکٹر نے ان دونوں کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ بنا کوٸی تماشا کیٸے اس پر بیٹھے
ہاں تو جی مولوی صاحب أپ نکاح پڑھنا شروع کریں
پولیس اسپیکٹر نے لیڈی ورک کو ڈوپٹہ لانے کا کہا وہ ڈوپٹہ لے أٸی تھی اور ملی کے سر پر اوڑھایا
ان دونوں کو کچھ سمجھ نہیں أ رہا تھا جب مولوی نے شایان سے نکاح کی رضامندی پوچھی تو وہ دونوں کا سانس لینا محال ہوگیا
مولوی کو شایان کا نام اور پتا دانیال زبیر جو کہ وہ بھی پولیس کی ہراست میں تھے انہوں نے دیا تھا
ملی سے لیڈی ورک نے نام پوچھا تھا وہ بے دماغکی سے اپنا نام اور باپ کا نام بتا گٸی تھی
شایان سجاد چوہدری أپ کا نکاح ملی حسن سے ایک لاکھ روپے میں طعے کیا جاتا ہے کیا یہ نکاح أپ کو قبول ہے
مولوی نے شایان کو شاکت دیکھ اپنا سوال دوبارہ دہرایا
سر یہ سب کیا ہو رہا ہے — شایان کو ہوش أتے ہی پولیس اسپیکٹر کو دیکھ سخت لہجے سے کہا تھا
تمھارا دوسری بار نکاح ہو رہا ہے ویسے تم دونوں خوش نصیب ہو کسی کا تو ایک ہی نکاح نہیں ہو رہا—– اور یہاں تم دونوں کا دوسری بار نکاح پڑھایا جا رہا ہیں—- تم دونوں مجھے ڈھیر ساری دعاٶں سے نوازوں گٸے ہیں نا —
ان کے چہروں کی اوڑھی رنگت دیکھ کر سیطانی مسکراہٹ لیٸے پولیس اسپیکٹر نے ان دونوں کو دیکھ کر کہا تھا
ملی شایان کا دل کیا کہ ابھی کے ابھی پولیس اسپیکٹر کا گلا دبا کر اس کو دنیا سے بنا ٹکٹ کے رخصت کر دے جو ان کی زندگی عزاب بنانے پر تلا تھا پر بیچارے ایسے دلدل میں پھس گٸے تھے کہ ان کو ایک راستہ کھاٸی اور دوسرا أگ نظر أ رہا تھا
اگر وہ نکاح کرتے تو جو ایک دوسرے کی شکل دیکھ کر انکا بے پی ہاۓ ہو جا ہے وہ پوری زندگی ایک ساتھ کیسے گزارے گٸے
اور دوسری جانب اگر وہ نکاح سے صاف انکار کر دیتے ہے — تو ان کی جان پولیس اسپیکٹر أسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا
ملی شایان نے ایک دوسرے کو دیکھا جن کو سمجھ نہیں أ رہا تھا
بلی میری پوری بات دھیان سے سُنو اور ہاں پلیزززز سمجھنے پر ہی او ور ری ایکٹ کرنا —
شایان ملی کے کان میں ہلکی سرشوگی کرتے اسکو کہہ رہا تھا اور نظر پولیس اسپیکٹر کو پھیکی چہرے پہ مسکان لیٸے اسے دیکھ رہا تھا
ملی نے سخت گھوری سے شایان کو دیکھا
ہم نکاح کرتے ہیں کم سے کم اس پولیس اسپیکٹر سے تو جان چھوٹ جاٸیں گٸی — اور رہی بات نکاح کی تو کل کورٹ میں جاکر طلاق لیں لے گٸے باقی اور کوٸی طریقہ مجھے سمجھ نہیں أرہا —- اور اگر تمھارے پاس ہے اس سے اچھا أٸیڈیا تو بتاٶ
ملی نے بنوز شایان کو دیکھا اور سوچنے لگٸی تھی کہ واقعی شایان کی بات میں دم ہے تو اس نے شایان کو دیکھ مطمٸن ہوکے سر اثبات میں ہاں میں ہلایا
اس طرح مولوی نے تین بار شایان سے پوچھا شایان نے تین ہی بار ملی کو نکاح میں قبول کیا تھا
مولوی نے تین بار ملی سے پوچھا تو اس نے بھی نکاح میں ہامی بھری اور شایان کو قبول کیا تھا
نکاح ہوجانے کے بعد پولیس اسپیکٹر نے خوشی سے ھولدار کو کہا کہ میٹھاٸی تقسیم کرو — ھولدار نے فوراً نکاح کی میٹھاٸی سب میں تقسیم کی تھیں
دوسری بار نکاح بہت مبارک ہو — پولیس اسپیکٹر شایان کو کھینچ کر اپنے گلے سے لگایا اور اس کے کندھے پر زور زور سے خوشی میں تھپکی دی شایان نے ہاتھوں کی مٹھیاں زور سے بند کی اس کا دل کیا کہ پولیس اسپیکٹر کو ابھی جان سے مار دے پھر افسوس بس یہ اسکے دماغ کا فتور تھا
ان کا نکاح نامہ مولوی نے شایان کو تھمایا تھا پولیس اسپیکٹر نے ان کو جانے کی اجازت دیٸے دی تھی وہ پولیس سٹیشن سے باہر نکل أۓ تھے
اب کیا کریں اگٸے — ملی نے تھکے اندازہ میں شایان کو دیکھ کہا تھا وہ دونوں بہت تھک گٸےتھے
ابھی تو تم اپنے گھر جاٶ اور میں اپنے پھر شام کو کورٹ میں ملتے ہیں
اپنا نمبر دو میں لکویشن بیچ دوگا کہ کس کورٹ میں أنا ہے
شایان نے سنجیدگی سے ملی کو دیکھ کہا تھا
ملی نے بنا کوٸی بحث کیٸے شایان کو موباٸل نمبر دیا تھا اور دونوں ہی اپنے گھر کے لیٸے نکلے تھے